خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 693 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 693

خطبات مسرور جلد 12 693 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 نومبر 2014ء جب عادی ہو جائے تو پھر تکلیف ختم ہو جاتی ہے، فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان سے میں نے خود اپنے کانوں سے یہ مضمون بار ہا سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قسم کے ابتلاء آیا کرتے ہیں۔ایک تو وہ ابتلاء ہوتے ہیں جن میں بندے کو اختیار دیا جاتا ہے کہ تم اس میں اپنے آرام کے لئے خود کوئی تجویز کر سکتے ہو۔چنانچہ اس کی مثال میں آپ فرماتے تھے دیکھو! وضو بھی ایک ابتلاء ہے۔سردیوں کے موسم میں جب سخت سردی لگ رہی ہو۔ٹھنڈی ہوا چل رہی ہو اور ذراسی ہوا لگنے سے بھی انسان کو تکلیف ہوتی ہو۔“ ( اب تو یہاں ہمارے تصور نہیں غسل خانوں میں بھی بیٹنگ ہوتی ہے گرم پانی آ رہا ہوتا ہے۔لیکن ہیٹنگ بھی کوئی نہ ہو باہر جانا ہو ،ٹھنڈا پانی ہو تب سردیوں میں وضو کا ایک تصور قائم ہوسکتا ہے۔) فرمایا کہ ” خدا تعالیٰ کی طرف سے انسان کو حکم ہوتا ہے کہ نماز پڑھنے سے پہلے وضو کرو۔بسا اوقات جب نماز کا وقت ہوتا ہے اس وقت گرم پانی نہیں ہوتا یا بسا اوقات اسے گرم پانی میسر تو آ سکتا ہے مگر اس وقت تیار نہیں ہوتا۔پھر بسا اوقات اسے گرم پانی میسر ہی نہیں آ سکتا۔یخ بستہ پانی ہوتا ہے اور اسی پانی سے اسے وضو کر کے نماز پڑھنی پڑتی ہے۔آپ فرمایا کرتے کہ یہ بھی ایک ابتلاء ہے جو اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے لئے رکھ دیا۔مگر فرمایا یہ ایسا ابتلاء ہے جس میں بندے کو اختیار دیا گیا ہے یعنی اسے اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ اگر پانی ٹھنڈا ہے تو گرم کر لے۔گویا یہ ایک اختیاری ابتلاء ہے۔“ اس قسم کی اختیاری ابتلاء کی بہت ساری مثالیں اور بھی دی جاسکتی ہیں۔فرمایا کہ یہ جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا اور انسان کو اس بات کی اجازت دی کہ اگر ٹھنڈے پانی سے تم وضو نہیں کر سکتے تو ہمت کرو اور آگ پر پانی گرم کر لو اور اپنے گھر میں آگ موجود نہیں تو ہمسائے کے گھر سے آگ لے کر پانی گرم کر لو اور گرم پانی سے وضو کر نے کے بعد اچھی طرح گرم کپڑے پہن لو تا تمہیں سردی محسوس نہ ہو یا بعض اوقات لوگ مسجدوں میں حمام بنا دیتے ہیں جن میں پانی گرم رہتا ہے۔پس جو لوگ غریب اپنے گھروں میں پانی گرم نہیں کر سکتے وہ مساجد میں جا کر حمام سے وضو کر سکتے ہیں“۔یہ جو غیر ترقی یافتہ ممالک ہیں یا کم ترقی یافتہ ممالک ہیں وہاں جولوگ سننے والے ہیں وہ اس کا صحیح تصور پیدا کر سکتے ہیں بلکہ آپ میں سے بھی جو سب بڑے ہیں۔یہاں کے پیدا ہوئے ہوئے لوگ شاید اس کا تصور پیدا نہ کر سکیں۔یہاں گرم پانی میسر آ جاتا ہے۔لیکن بہر حال بہت سارے ہم میں سے جانتے ہیں کہ پاکستان ہندوستان وغیرہ میں کیا صورتحال ہوتی ہے۔پھر فرمایا: "یا اگر مسجد میں گرم حمام کا انتظام نہ ہو تو پھر کوئی ہمت والا کنوئیں سے تازہ پانی کا ڈول نکال کر اس سے وضو کر لیتا ہے اس طرح بھی وہ سردی سے بیچ جاتا ہے کیونکہ سردیوں میں کنویں کا تازہ پانی قدرے گرم ہوتا ہے۔پس اگر کوئی ذریعہ اس