خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 691 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 691

خطبات مسرور جلد 12 691 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 نومبر 2014ء حاصل نہ کرے انعام نہیں مل سکتا۔مذہب میں داخل ہونے سے بھی کمال ہی فائدہ دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ آجکل ہم سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جو گہراتعلق رکھتے ہیں۔یا تو پوری مخالفت کرنے والے مثلاً مولوی ثناء اللہ صاحب وغیرہ۔دوسرے چھوٹے چھوٹے مولویوں کو کوئی پوچھتا بھی نہیں یا کامل اخلاص رکھنے والے۔اب چھوٹے مولویوں نے بھی اپنے اپنے علاقوں میں اپنی روزی کمانے کا ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت کو بنایا ہوا ہے اور ان کو اگر روٹی مل رہی ہے تو اسی وجہ سے مل رہی ہے۔فرماتے ہیں کہ ادنی تعلق فائدہ نہیں دیتا۔اصل میں کمال ہی سے فضل ملتا ہے۔بغیر اس کے انسان فضل سے محروم رہتا ہے۔اگر انسان هر چه باده بادکشتی مادر آب انداختیم “ کہہ کر خدا تعالیٰ کی طرف چل پڑے۔( یعنی اب چاہے جو بھی ہونا ہے ہو جائے ہم نے تو اپنی کشتی دریا میں ڈال دی ہے۔اگر یہ کہہ کر خدا تعالیٰ کی طرف چل پڑے ) تو اس کے ساتھ بھی پہلوں کا سا معاملہ ہوگا۔آخر خدا تعالیٰ کو کسی سے دشمنی نہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان کامل طور پر اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے آگے ڈال دے اور اس کے آستانہ پر گرا دے۔اس سے آپ ہی آپ اسے سب کچھ حاصل ہو جائے گا اور جو ترقی اس کے لئے ضروری ہو گی وہ آپ ہی آپ مل جائے گی“۔(اس لئے ہر احمدی کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ مانا ہے تو مکمل اس کے آگے ڈالنا ہو گا )۔آپ نے لکھا کہ آگ کے پاس بیٹھنے والے کے اعضاء کو دیکھو سب گرم ہوں گے۔اس کا چہرہ ہاتھ پاؤں جہاں ہاتھ لگا ؤ گے گرم محسوس ہوگا تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ کوئی شخص سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر خدا کے پاس آئے اور اس کے پاس بیٹھ جائے اور خدا تعالیٰ کا وجود اس کے اندر سے ظاہر نہ ہو۔آگ کے اندر لوہا پڑ کر آگ کی خصوصیات ظاہر کرنے لگ جاتا ہے گو وہ آگ نہیں ہوتا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والے لوگوں سے خاص معاملات ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں كُن فَيَكُون والی چادر پہنا دیتا ہے حتی کہ نادان ان کو خدا سمجھنے لگ جاتے ہیں حالانکہ وہ تو صرف خدا تعالیٰ کی صفات کا عکس پیش کر رہے ہوتے ہیں۔پس اگر کوئی مذہب سے فائدہ اٹھانا چاہے تو اس کا طریق یہی ہے کہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے آگے گلی طور پر ڈال دے۔لیکن اگر قوم کی قوم اس طرح کرے تو اس پر خاص فضل ہوں گے اور وہ ہر میدان میں فتح حاصل کرے گی۔ہماری جماعت کے لئے بھی یہی قدم اٹھانا ضروری ہے مگر بہت سے لوگ صرف کہہ دینا کافی سمجھتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ سے ایسی محبت کرنی چاہئے کہ ایک طبعی شئے بن جائے۔صرف جھوٹا دعوی نہ ہو کیونکہ جھوٹ اور خدا تعالیٰ کی محبت ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتی۔جھوٹ ایک ظلمت ہے اور