خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 678
خطبات مسرور جلد 12 678 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 نومبر 2014ء ٹانگ کو دیکھتا اور کہتا کہ اے میری ٹانگ ! میں خدا کا بندہ اور مسیح موعود کا خادم ہوں۔میں نے مختلف جگہوں پر جا کر تبلیغ کرنی ہے اور تو اس راہ میں روک نہیں بن سکتی۔میں نے خود بھی ان کو دیکھا ہے تبلیغ کا بے انتہا شوق تھا۔پھر ان کو حضرت علینہ امسیح الرابع نے علاج کی غرض سے امریکہ بھجوادیا اور حضرت علینہ مسیح الرابع نے ڈاکٹر صاحب کو جو خط لکھا وہ یہ تھا کہ آپ خوش نصیب ہیں کہ آپ یوسف کے علاج میں حصہ لے رہے ہیں۔یہ مت خیال کریں کہ یوسف آپ کے پاس آئے ہیں بلکہ سمجھیں کہ میں خود آپ کے پاس آ گیا ہوں کیونکہ یوسف صاحب مجھے بہت عزیز ہیں اور اس لئے ان کا اتنا ہی خیال رکھیں جتنا آپ میرا رکھ سکتے تھے۔بہر حال ان کے چارآ پریشن تجویز ہوئے جو ڈاکٹر حمید الرحمن صاحب نے کرنے تھے۔تیسرے آپریشن کے بعد یوسف صاحب نے کہا کہ میں نے آپریشن نہیں کرانا۔پھر ڈاکٹر صاحب نے حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کو لکھا کہ آپریشن نہیں کروانا چاہتے تم انہوں نے کہا کہ نہیں کروانا چاہتے تو ٹھیک ہے نہ کروائیں لیکن انہوں نے اس سے پہلے حضرت خلیفہ مسیح الرابع کی خدمت میں ایک خط لکھ دیا تھا کہ انہوں نے خواب دیکھی ہے۔اس بناء پر حضرت خلیفہ مسیح الرابع نے بھی کہا کہ اگر یہ نہیں کروانا چاہتے تو نہ کروا ئیں لیکن یہ میں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے شفایاب ہو جائیں گے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شفا دی۔یوسف صاحب کہتے ہیں کہ میں اپنے کمرے میں تھا کہ کشفاً دیکھا کہ کمرے کی دیوار پر ایک آیت لکھی جا رہی ہے اور اس کے پیچھے ایک نامعلوم آواز میں اس آیت کی تلاوت کی آواز آ رہی ہے کہ ان الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا (حم السجدة: 31)۔تلاوت کے بعد ایک اجنبی آدمی کمرے میں داخل ہوا اور اس نے آپ کے پاس بیٹھ کر آپ کی ٹانگ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔یوسف فکر مت کرو۔یہ بیماری تو ختم ہونے ہی والی ہے اور تم جلد شفایاب ہو جاؤ گے۔کہتے ہیں نو سال تک بیماری میں مبتلا تھے مگر اس کے بعد ایسا معجزہ ہوا کہ آخر تک، اب تک ان کو دوبارہ اس کے کوئی آثار ظاہر نہیں ہوئے۔بلکہ مبلغ کوثر صاحب بتاتے ہیں کہ قادیان میں 2005ء میں مجھے ملے۔کیونکہ انہوں نے امریکہ میں ان کی حالت دیکھی ہوئی تھی تو چھلانگیں لگا کر دکھایا کہ دیکھو میری ٹانگ بالکل ٹھیک ہے۔کوئی اثر نہیں۔آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشارہ ملا تھا کہ 63 سال کی عمر میں وفات پا جائیں گے۔لہذا جب 63 سال کے ہونے والے تھے تو اپنی اولاد کو بتایا اور قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی کہ آمد كُنتُم