خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 677 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 677

خطبات مسرور جلد 12 677 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 نومبر 2014ء والد کو پہلے سے نہیں جانتا لیکن ان کی موت کو دیکھ کر کہ سکتا ہوں کہ وہ ایک عظیم انسان تھے۔15 دسمبر 1942ء کو کماسی میں عیسائی گھر میں پیدا ہوئے اور مذہب کی طرف بچپن سے غیر معمولی رجحان تھا۔کہتے ہیں ایک مرتبہ ویسٹ ریجن میں اپنے چچا کے ہمراہ رہتے ہوئے وہیں تعلیم حاصل کر رہے تھے کہ خیال آیا کہ اگر دنیا کی تمام رنگینیاں اور دولت حاصل کرلوں تو مجھے کیا فائدہ ہوگا اگر خدا مجھ سے راضی نہ ہو۔بہر حال چچا کا کیونکہ سینما کا کاروبار تھا اور اس کی وجہ سے ان کو بھی فلمیں وغیرہ دیکھنے کی عادت پڑ رہی تھی تو اس پر ان کو بڑی کراہت آئی اور چھوڑ کے آگئے۔پھر رومن کیتھولک چرچ میں جا کر انہوں نے دعا کی کہ اے خدا! اگر میرا جینا تیری ناراضگی کا باعث ہو گا تو جس وقت تو مجھ سے راضی ہو گا اس وقت میری جان لے لینا۔اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی دعا ایسی قبول کی۔پھر ان کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔لگتا ہے وہیں موقع پر اللہ تعالیٰ نے دعا قبول کی۔کہتے ہیں کہ دعا سے فارغ ہو کے جب باہر نکلے تو ایک دوست ان کو باہر ملا اور کہنے لگا جوزف ! ( ان کا پہلا نام جوزف تھا) کہ مجھے ایک جماعت کی تبلیغ سنے کا اتفاق ہوا ہے جو مجھے پسند آئی ہے اور اب میں اس جماعت میں داخل ہونے کے لئے مشن ہاؤس جا رہا ہوں۔یوسف ایڈوسی صاحب کو انہوں نے کہا کہ تم بھی میرے ساتھ جانا پسند کرو گے تو چلو۔انہوں نے کہا ہاں۔چنانچہ یہ دونوں کماسی مشن ہاؤس آ گئے جہاں ان کی ملاقات مبلغ سلسلہ سے ہوئی۔مبلغ نے ان دونوں سے پوچھے بغیر کہ کون بیعت کرنے آیا ہے دونوں کو شرا ئط بیعت پڑھ کر سنا ئیں۔پھر اس کے بعد پوچھا کہ کون بیعت کرنے آیا ہے۔تو اس کو سنتے ہی یوسف ایڈوسٹی صاحب نے بلا تامل کہا کہ ہم دونوں بیعت کرنا چاہتے ہیں۔چنانچہ آپ احمدیت میں شامل ہو گئے۔اس وقت آپ کی عمر سولہ سال تھی اور اس کے بعد آپ کو اپنے والدین کی مخالفت کا خاص طور پر باپ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا لیکن آپ اس بیعت پر قائم رہے اور حق سے پیچھے نہیں ہے بلکہ بعد میں معلم بن کے بلکہ اس سے بھی پہلے اپنے والد کو اتنی تبلیغ کی کہ انہوں نے بھی احمدیت قبول کر لی۔میں سال کی عمر میں انہوں نے جامعہ المبشرین گھانا سے تعلیم مکمل کی۔اس کے بعد ان کی امینہ ایڈوسٹی صاحبہ سے شادی ہوئی۔احمدیت قبول کرنے کے بعد مسلسل روحانی منازل طے کرتے رہے۔چالیس سال کی عمر میں آپ شدید بیمار ہو گئے اور ڈاکٹروں نے متفقہ طور پر آپ کو ٹانگ کاٹنے کا مشورہ دیا کہ اس کے علاوہ کوئی حل نہیں۔بلکہ بعض ڈاکٹروں نے کہا کہ یہ لاعلاج مرض ہے تم زیادہ دیر زندہ بھی نہیں رہ سکتے۔آخر کہتے ہیں کہ ڈاکٹر علاج کرنے سے تنگ آ جاتے تو کئی مرتبہ میں خود درد کا ٹیکہ لگاتا۔متاثرہ