خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 679
خطبات مسرور جلد 12 679 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 نومبر 2014ء شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ بَعْدِى (البقرة: 134 )۔تو کہتے ہیں کہ میں نے اولاد کو جمع کر کے پوچھا کہ میرے بعد تم کس خدا کی پرستش کرو گے؟ جس طرح یعقوب نے پوچھا تھا اسی طرح اب میں سب سے پوچھتا ہوں کہ کس رب کی عبادت کرو گے؟ اولاد نے جوابا کہا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے۔آپ نے کہا کہ میری زندگی تمہارے سامنے ہے۔میں نے اپنی ساری زندگی جماعت کے لئے صرف کر دی۔اب میری موت کا وقت قریب آنے والا ہے اور میرا سچا وارث وہی ہو گا جو سب سے زیادہ متقی ہوگا۔اس کے کچھ دن بعد انہوں نے اپنے بھائی الحاج شریف صاحب کو بتایا کہ جس دن میں 63 سال کا ہوا تھا تو اس دن واقعۂ ملک الموت آیا تھا مگر میں نے کچھ مہلت مانگی اور فرشتے نے کہا ٹھیک ہے۔کچھ مہلت دے دی جائے گی۔آپ نے مزید بتایا کہ اگرچہ فرشتہ نے معین طور پر کچھ نہیں بتایا لیکن انہیں لگتا ہے کہ ستر سال کی عمر کے لگ بھگ انہیں مہلت دے دی جائے گی۔جب مولا نا وہاب آدم صاحب مبلغ انچارج بیمار ہوئے ہیں اور وہاب آدم صاحب کا انتقال ہوا ہے تو پھر کہتے تھے اب عنقریب میری باری آنے والی ہے۔گھانا کے یہ مخلصین جار ہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ان سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ جماعت کو مزید مخلصین عطا فرمائے۔یہاں جلسے پر بھی اس سال آئے ہوئے تھے۔کچھ بیمار بھی تھے۔علاج کے لئے ان کو میں نے ڈاکٹروں کو یہاں دکھوایا بھی تھا تو ان کی جلدی یہی تھی کہ نہیں اب میرا خیال ہے میں واپس چلا جاؤں تو بہر حال ڈاکٹروں نے بھی یہی کہا کہ علاج تو وہیں بھی ہوسکتا ہے۔حضرت خلیفۃ امسیح الرابع نے ایک دفعہ یہاں یو کے میں جلسے پر تقریر کے دوران آپ کو بلایا اور آپ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سٹیج پر فرمایا تھا کہ یوسف مجھے پتا ہے کہ آپ پسند نہیں کرتے کہ آپ کے نیک اعمال سب کے سامنے بیان کئے جائیں مگر آپ کے اعمال خود بخود ظاہر ہو گئے ہیں اور میں جماعت کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ بہت نیک اور متقی انسان ہیں۔اور اس عرصے میں یہ باتیں سن کے مستقل رور ہے تھے۔جب میں پہلی دفعہ 2004ء میں دورے پر گیا ہوں تو وہاں بھی مالی قربانی میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے پیش پیش تھے۔جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ایک دوائی انہوں نے ایجاد کی تھی۔جس کی بہت زیادہ مارکیٹنگ ہوئی اور ان کو اس سے کافی منافع ملتا تھا۔اس سے انہوں نے بہت ساری مساجد تعمیر کروائی ہیں۔گھانا میں تقریباً چالیس پینتالیس مساجد تعمیر کروائی ہوں گی اور بعض اچھی اچھی مساجد