خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 671 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 671

خطبات مسرور جلد 12 671 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 نومبر 2014ء دیا۔پھر دوران سال جب انہیں مالی قربانی کی اہمیت کا پتا چلا تو انہوں نے اپنا وعدہ دو گنا کر دیا اور تحریک جدید کے ساتھ ساتھ وقف جدید میں بھی دو ہزار فرانک کا وعدہ لکھوا دیا۔موصوف جس کمپنی میں کام کرتے ہیں اس نے انہیں ایک ایسے کورس کی آفر کر دی جو بہت مہنگا ہوتا ہے۔یہ کمپنی بالعموم صرف ان ملازمین کو ہی کورس کرواتی ہے جن کے پاس تجربہ ہو اور جن کی عمر 35 سال سے زائد ہو۔اور بہت سے لوگ یہ کورس کرنے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن انہیں یہ موقع نہیں ملتا۔وہ کہتے ہیں کہ میری عمر تئیس سال ہے اور میں نے اس کورس کے بارے میں سوچا بھی نہ تھا لیکن کمپنی نے خود مجھے یہ کورس کروانے کی آفر کر دی۔یقینا یہ مالی قربانی کی برکت کا پھل ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فر مایا۔پس یہ جو یورپ میں بھی نئے آنے والے ہیں ان کو بھی اللہ تعالیٰ اس طرح اپنی ہستی کا یقین دلاتا ہے۔اسی طرح ایک مقد و نین سوئس احمدی بیکم (Bekim) صاحب ہیں۔کہتے ہیں میں جس کمپنی میں کام کرتا ہوں اس کا مالک بہت بخیل اور تنگدل انسان ہے۔کسی کو پیسے دینا اس کے لئے بہت مشکل ہے۔ورکرز (Workers) کو بہت تھوڑی تنخواہ دیتا ہے اور دور کر ا کثر تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں اور یا تو وہ مطالبات نظر انداز کر دیتا ہے یا ٹال مٹول سے کام لیتا ہے۔کہتے ہیں ایک دفعہ اس مالک نے مجھے اپنے دفتر بلایا اور کہا کہ میں تمہاری تنخواہ بڑھانا چاہتا ہوں۔اس پر میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ آپ تو اس معاملے میں بڑا سخت رویہ رکھتے ہیں۔پھر آپ نے از خود میری تنخواہ بڑھانے کا کیوں سوچا ہے۔اس پر مالک کہنے لگا مجھے نہیں علم لیکن یہ بات میرے دل میں بڑے زور سے آئی ہے اور کافی عرصے سے میں نے تمہاری تنخواہ نہیں بڑھائی۔اس لئے مجھے تمہاری تنخواہ میں اضافہ کر دینا چاہئے۔یہ کہتے ہیں کہ بغیر کسی ظاہری وجہ کے میری تنخواہ میں اضافہ ہو گیا۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ صرف اور صرف مالی قربانی کا نتیجہ ہے۔یہاں نصیر دین صاحب لندن کے ریجنل امیر ہیں۔یہ ایک دوست کا واقعہ لکھتے ہیں کہ ایک احمدی دوست نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ سے بہت دعا کی کہ چندہ تحریک جدید کے سلسلے میں میری مددفرما۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خیال میرے دل میں ڈالا گیا کہ دفتر جاتے ہوئے ٹرین پر جانے کی بجائے بس پر سفر کیا کروں۔اس طرح مجھے مفت سفر کی سہولت ملے گی اور کافی بچت بھی ہو جائے گی۔بس میں سفر کرنے میں اگر چہ نصف گھنٹہ زیادہ لگتا ہے لیکن میں نے فوری طور پر اس کے مطابق عمل شروع کر دیا۔اس طرح روزانہ دو پاؤنڈ کی بچت ہونے لگی اور سال بھر میں وہ ایسا کرتے رہے اور گل چار سو پاؤنڈ کی بچت ہوئی جوتحریک جدید میں چندہ ادا کر دیا تو اس طرح بھی لوگ سوچتے ہیں۔