خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 58 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 58

خطبات مسرور جلد 12 10 58 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 جنوری 2014ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرز امر وراحمد خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 31 جنوری 2014 ء بمطابق 31 صلح 1393 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: گزشتہ خطبہ میں اصلاح اعمال یا تربیت کے حوالے سے مربیان، اس میں تمام واقفین زندگی شامل ہیں ، امراء اور عہد یدار ان کی ذمہ داریوں کی بات ہو رہی تھی کہ کس طرح انہیں اپنا کردار عملی اصلاح کی روک کے اسباب پر قابو پانے کے لئے ادا کرنا چاہئے اور اس کے لئے کن چیزوں کی ضرورت ہے جن کو مربیان اور عہدیداران کو اپنے اوپر لاگو کر کے پھر جماعت کو بتانے اور دکھانے کی ضرورت ہے۔یہاں یہ بھی واضح کر دوں کہ وہ علما ء اور واعظین جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں تھے اُن میں صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام شامل تھے اور صحابہ سے تربیت پانے والے بھی شامل تھے، اُن کا تعلق باللہ اور ایمان اور یقین کا معیار بھی یقیناً بہت اعلی تھا۔اُن کی کمی ان باتوں میں نہیں تھی۔کمی اس بات کی تھی جس کی طرف حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے توجہ دلائی کہ ترجیحات کو بدلنے کی ضرورت ہے یا اعتقادی مسائل پر جس طرح زور دیا جا رہا ہے اسی طرح عملی اصلاح کی اہمیت پر بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نشانات اور اپنے ذاتی تعلق باللہ اور اطاعت خلافت اور احترام نظام کے حوالے سے بھی افراد جماعت کی تربیت کی ضرورت ہے۔لیکن آجکل ہمیں نظر آتا ہے کہ ہمارا ان باتوں میں وہ معیار نہیں ہے۔اس لئے جب میں کہتا ہوں کہ مربیان اور عہدیداران اپنے اوپر لاگو کر کے پھر افرادِ جماعت کو بتا ئیں تو اس کی خاص اہمیت ہے۔یعنی اپنے پر لاگو کرنے کے لفظ پر غور کرنے اور عمل کرنے اور اپنا نمونہ قائم کرنے کی بہت ضرورت ہے تبھی اصلاحی باتوں کا اثر بھی حقیقی رنگ میں ہوگا۔