خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 59
خطبات مسرور جلد 12 59 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 جنوری 2014ء گزشتہ خطبہ میں قوت ارادی کے پیدا کرنے اور علمی کمزوری دور کرنے کا ذکر ہو گیا تھا لیکن تیسری بات اس ضمن میں بیان نہیں ہوئی تھی۔یعنی عملی کمزوری کو دور کرنے کا طریق یا عملی قوت کو کس طرح بڑھایا جا سکتا ہے۔اس بارے میں آج کچھ کہوں گا۔اس کے لئے جیسا کہ پہلے خطبات میں ذکر ہو چکا ہے، بیرونی علاج یا مدد کی ضرورت ہے۔یا کہہ سکتے ہیں کہ دوسرے کے سہارے کی ضرورت ہے۔اور عملی اصلاح کے لئے یہ سہارا دو قسم کا ہوتا ہے یا دو قسم کے سہاروں، ایک نگرانی کی اور دوسرا جبر کی ضرورت ہے۔نگرانی یہ ہے کہ مستقل نظر میں رکھا جائے، زیر نگرانی رکھا جائے کہ نہیں کوئی بدعمل نہ کر لے۔اس قسم کی نگرانی دنیاوی معاملات میں بھی ہوتی ہے۔گھروں میں ماں باپ بچوں کی نگرانی کرتے ہیں۔سکولوں میں استاد علاوہ پڑھانے کے نگرانی کا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔بعض دفعہ حکومت کے کارندے نگرانی کر رہے ہوتے ہیں اور یہ بتا دیتے ہیں کہ ہم نگرانی کریں گے۔سڑکوں پر ٹریفک کے لئے مستقل کیمرے لگائے ہوتے ہیں اور بورڈ لگے ہوتے ہیں کہ کیمرہ لگا ہوا ہے۔یہ نگرانی کا ایک عمل ہے۔جو بچے ماں باپ کی زیادتیوں کا نشانہ بنتے ہیں اُن کے والدین کو warning دی جاتی ہے کہ ہم نگرانی کریں گے۔اگر بچوں کو زیادہ تنگ کیا گیا تو پھر بچوں کی بہبود کا جو ادارہ ہے وہ کہتا ہے کہ ہم بچے لے جائیں گے۔ان ترقی یافتہ ممالک میں تو یہ بہت عام ہے۔بلکہ میرے خیال میں تو بچوں کے معاملے میں ناجائز حد تک یہ نگرانی ہوتی ہے۔اور ماں باپ بچوں سے ڈر کر یا اس ادارے سے ڈر کر جائز روک ٹوک بھی بچوں پر نہیں کرتے اور نتیجہ بسا اوقات بچے بھی بگڑ جاتے ہیں۔دنیا کے معاملات میں تو یہ نگرانی بعض دفعہ نقصان کا باعث بھی بن رہی ہوتی ہے۔پھر خاوند بیوی کے تعلقات میں خرابی کی وجہ سے بھی اُن کی نگرانی ہوتی ہے۔پھر ملزمان کی نگرانی ہوتی ہے۔بہر حال اس ساری نگرانی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اُس کو اُن کاموں سے روکا جائے جن کی وجہ سے فساد پیدا ہوسکتا ہے یا اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اصلاح ہو۔بہر حال نگرانی ہر معاشرے کے قانون میں اصلاح کا ایک ذریعہ ہے اور عملی اصلاح کرنے کے لئے دین بھی اس کی طرف ہمیں توجہ دلاتا ہے۔اور بہت سے غلط کاموں سے انسان اس وجہ سے بچ رہا ہوتا ہے کہ معاشرہ اس کی نگرانی کر رہا ہے۔ماں باپ اپنے دائرے میں نگرانی کر رہے ہوتے ہیں۔مربیان کا اپنے دائرے میں بینگرانی کرنا کام ہے۔اور باقی نظام کو بھی اپنے اپنے دائرے میں نگران بننا ضروری ہے۔اور جب اسلام کی تعلیم بھی سامنے ہو کہ ہرنگران نگرانی کے بارے میں پوچھا جائے گا۔(صحیح البخاری کتاب الجمعه باب الجمعة فى القرى والمدن حدیث نمبر 893