خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 632 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 632

خطبات مسرور جلد 12 632 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اکتوبر 2014ء سے تعلق میں بیان کی ہے اس میں سبق ہوتا ہے کہ بچوں سے بھی محبت سے ہاتھ پکڑے رکھا، چھڑوایا نہیں۔جب ضرورت ہوئی ، کام کی ضرورت ہوئی تو طریقے سے، محبت سے، پیار سے چھڑوا بھی لیا تا کہ بچے پر برا اثر بھی نہ پڑے۔(ماخواز الفضل انٹر نیشنل مؤرخہ 24 تا 30 اکتوبر 2014 ، صفحہ 4 ، ماخوذ از مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر ، انوار العلوم جلد 14 صفحہ 552 تا 557) صحابہ کے واقعات تو پہلے بھی میں بیان کرتا رہا ہوں۔حضرت مصلح موعود نے اپنے انداز میں بھی اپنے بعض واقعات بیان کئے یا جو آپ کے سامنے ہوئے جو آپ نے دیکھے وہ آپ بیان فرماتے رہے اور آپ کے مختلف خطابات اور خطبات میں یہ چھپے ہوئے ہیں۔ان میں سبق بھی ہیں۔نصائح بھی ہیں۔تاریخ بھی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت بھی ہے۔اس کے کئی پہلو سامنے آتے ہیں۔یہ سب باتیں ہماری زندگیوں میں بڑا مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔یہ باتیں ہماری زندگیاں سنوانے والی ہیں۔ہمارے ایک واقف زندگی حبیب الرحمن صاحب کوشش کر رہے ہیں کہ ان کو مختلف جگہوں سے نکال کے جمع کریں۔اچھی کوشش ہے لیکن بعض باتیں بغیر سیاق و سباق کے واضح نہیں ہوسکتیں کیونکہ انہوں نے صرف واقعات اکٹھے کر دیئے ہیں۔اس کیلئے کچھ اصول اور طریقے بنانے ہوں گے۔بحر حال ایک خاص شکل دیئے جانے کے بعد جب یہ علیحدہ چھپ جائے گی تو امید ہے کہ ہمارے لٹریچر میں اچھا اضافہ ہوگا۔اس وقت میں نے یہاں بیان کرنے کیلئے بعض باتیں اور واقعات لئے ہیں جو حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے اپنے ہیں یا آپ نے دوسروں کے واقعات اپنے انداز میں بیان فرمائے ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا اس میں نصائح بھی ہیں اور بعض باتوں کی وضاحتیں بھی۔چند ایک آج میں بیان کروں گا۔کسی خاص موضوع پر نہیں بلکہ مختلف قسم کے واقعات ہیں اور آئندہ بھی حسب موقع بیان ہوتے رہیں گے۔انشاء اللہ خطبے میں اس لئے میں یہ واقعات بیان کرتا ہوں اور کروں گا کہ ایم ٹی اے کے ذریعہ سے دنیا میں خطبہ جمعہ جو ہے یہ سب سے زیادہ جماعت احمدیہ میں سنا جاتا ہے اور جیسا کہ میں نے کہا کہ بعض مسائل حل کرنے میں یہ باتیں کردار ادا کرتی ہیں۔اس لئے ہر احمدی تک یہ پہنچنا ضروری ہیں اور خطبہ ہی اس کا بہترین ذریعہ ہے۔حضرت مصلح موعودؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک کتا ہمارے دروازہ پر آیا میں وہاں کھڑا تھا۔اندر کمرہ میں حضرت صاحب ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) تھے۔میں نے اس کتے کو اشارہ کیا اور کہا کہ ٹیپو ٹیپوٹیپو۔حضرت صاحب بڑے غصے سے باہر نکلے اور فرمایا تمہیں شرم نہیں