خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 633
خطبات مسرور جلد 12 633 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اکتوبر 2014ء آتی کہ انگریزوں نے تو دشمنی کی وجہ سے اپنے کتوں کا نام ایک صادق مسلمان کے نام پر ٹیپ رکھ دیا ہے اور تم ان کی نقل کر کے کتے کوٹیپو کہتے ہو۔خبر دار آئندہ ایسی حرکت نہ کرنا۔لکھتے ہیں کہ میری عمر شائد آٹھ نو سال کی تھی۔وہ پہلا دن تھا جب میرے دل کے اندر سلطان ٹیپو کی محبت قائم ہوگئی اور میں نے سمجھا کہ سلطان ٹیپو کی قربانی رائیگاں نہیں گئی۔اللہ تعالیٰ نے اس کے نام کو اتنی برکت بخشی کہ خدا تعالیٰ کا زمانے کا مامور اس کی قدر کرتا ہے اور اس کیلئے غیرت رکھتا ہے۔الفضل ربوہ یکم اپریل 1958 صفحہ 3 جلد 47 نمبر 76) اس واقعہ سے جہاں ایک طرف یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بچے کے ہر فعل کو بلا امتیاز برداشت کرنا حلم کی تعریف میں داخل نہیں وہاں حضرت صاحب کی بے پناہ دینی اور قومی حمیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔وہ بچہ جو آپ کے نہایت محنت سے لکھے ہوئے قیمتی مسودات کو جن پر خدا جانے کتنے گھنٹوں یا راتوں کی محنت آپ نے صرف فرمائی ہوگی ، آن واحد میں تیلی دکھا کر خاکستر کر دیتا ہے اس کا یہ فعل تو آپ برداشت فرما لیتے ہیں اور اس تکلیف کا کوئی خیال نہیں کرتے جو اس کے نتیجے میں دوبارہ آپ کو اٹھانی پڑی۔(ماخوذ از سوانح فضل عمر جلد اول صفحہ 78 شائع کردہ فضل عمر فاؤنڈیشن) یہ واقعہ جس کا وہ حوالہ دے رہے ہیں یہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت مصلح موعود نے جب آپ چھوٹے بچے تھے اور بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب جو آپ تصنیف فرمار ہے تھے، اس کا جو مسودہ لکھا ہوا تھا اس سارے کے سارے کو آکے آگ لگادی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات پر کچھ نہیں کہا۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام از مولوی عبد الکریم صاحب صفحہ 21-20 پبلشر ابوالفضل محمود قادیان) تو آ۔آپ یہی فرما رہے ہیں کہ اس کو تو برداشت کر لیا جو آپ کی اتنی محنت تھی لیکن یہ برداشت نہیں ہوا کہ ایک قومی لیڈر جو ہے اس کی ذراسی بھی ہتک کی جائے۔فرماتے ہیں لیکن ایک مسلمان سلطان جو قومی حمیت میں شہید ہوا اور جس کے ساتھ آپ کا اسلام کے سوا کوئی اور رشتہ نہ تھا اس کے نام کو ایک بچے کا لا علمی کی بنا پر بھی اس رنگ میں لینا جس سے اس کی تحقیر ہوتی ہو آپ سے برداشت نہ ہو سکا۔اس واقعہ میں ان لوگوں کیلئے بھی سبق ہے جو حضرت صاحب پر انگریز کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگانے کی جسارت کرتے ہیں۔قومی حمیت سے لبریز وہ دل جو سلطان فتح علی ٹیپو کی