خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 631
خطبات مسرور جلد 12 631 43 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اکتوبر 2014ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ السیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 24 /اکتوبر 2014ء بمطابق 24 اخاء 1393 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: دو دن ہوئے الفضل انٹر نیشنل کا تازہ شمارہ دیکھ رہا تھا۔اس میں حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک خطاب کا ایک حصہ دیا ہوا تھا جس میں آپ نے اس وقت 1937 ء میں یہ توجہ دلائی تھی کہ ابھی کئی صحابہ موجود ہیں اس لئے ان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات اور کلمات جمع کروائے جائیں کیونکہ ایک زمانہ آئے گا جب بہت سے مسائل کے حل کیلئے ان باتوں کی بہت اہمیت ہو جائے گی۔ایک مثال آپ نے بیان فرمائی کہ ایک نوجوان صحابی نے مجھے بتایا کہ انہیں صرف اتنا یاد ہے کہ میں جب بہت چھوٹا سا تھا تو ایک دن میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ لیا اور کچھ دیر آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑے رکھا اور برابر کھڑا رہا۔کچھ دیر کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا ہاتھ علیحدہ کیا اور کسی کام میں مصروف ہو گئے۔آپ لکھتے ہیں کہ اس نے تو یہی کہا کہ مجھے صرف اتنا یاد ہے۔گو میں صحابی ہوں لیکن صرف مجھے اتنی بات یاد ہے۔اب یہ ایک چھوٹی سی بات ہے لیکن آپ نے کہا کہ ان باتوں میں بھی بڑے نتائج نکلتے ہیں۔مثلاً اس ایک چھوٹی سی بات سے ہی پتہ چلتا ہے کہ چھوٹے بچوں کو بھی بزرگوں کی مجالس میں جانا چاہئے۔پھر یہ بھی کہ جب ضرورت محسوس ہو تو محبت سے اپنا ہاتھ چھڑ والیا۔پکڑا رکھا ٹھیک ہے۔لیکن جب ضرورت محسوس ہوئی ، کام کرنا تھا تو محبت سے اپنا ہاتھ چھڑوا لیا۔آپ لکھتے ہیں کہ ایسی باتیں بعض دفعہ بعد میں اٹھنے والے مسائل کا جواب ہوتی ہیں۔پس ہر چھوٹی سے چھوٹی بات بھی جو صحابہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام