خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 620
خطبات مسرور جلد 12 620 خطبه جمعه فرموده مورخہ 17 اکتوبر 2014ء پس ہم میں سے ہر ایک کو اس بات کو ہر وقت اپنے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔جیسا کہ اس فقرے سے واضح ہے کہ دین کے معاملے میں کوئی دنیاوی چیز روک نہیں بننی چاہئے۔اور دین کیا ہے؟ دین اللہ تعالیٰ کے احکامات کے تابع ہو کر اپنی زندگیاں گزارنا ہے۔اپنے ہر قول و فعل سے خدا تعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم میں سے بڑی تعداد یہ کوشش کرتی ہے کہ دین کے راستے میں جو چیز روک بن رہی ہوا سے دور کرے۔لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ ہر ایک کی کوشش ایک جیسی نہیں ہوسکتی کیونکہ ہر انسان کی علمی صلاحیت بھی مختلف ہوتی ہے اور دوسری استعداد میں اور صلاحیتیں بھی مختلف ہوتی ہیں۔ہاں اللہ تعالیٰ کیونکہ ہماری نیتوں کو بھی جانتا ہے اس لئے ہر ایک کی صلاحیت کے مطابق اس سے معاملہ کرتا ہے۔پس اس عہد کو پورا کرنے کے لئے بنیادی چیز نیک نیتی ہے۔اس میں کسی قسم کے عذر اور بہانے نہیں ہونے چاہئیں۔دنیاوی معاملات میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ہر انسان کا دائرہ مختلف ہوتا ہے۔کسی کی کوشش محدود دائرے میں ہوتی ہے کیونکہ اس کا علم اور صلاحیت اس چیز کو حاصل کرنے کے لئے محدود ہے یا بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ دوسری ترجیحات اس کے کام میں روک بن رہی ہوتی ہیں، جو اسے محدود کر دیتی ہیں اور کسی کی کوشش بہت زیادہ ہوتی ہے اور صیح رنگ میں ہوتی ہے۔جس مقصد کو حاصل کرنا ہوصرف اسی پر نظر ہوتی ہے اور وہ پھر اسے مکمل حاصل ہو بھی جاتا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اس مضمون کو بیان فرمایا ہے۔اس سے استفادہ کرتے ہوئے اور اس کی روشنی میں میں کچھ بیان کروں گا خاص طور پر واقعات ہیں۔محدود دائرے کی کوشش اور مقصود کے مطابق کوشش کی ایک عام سی مثال آپ نے اس طرح دی ہے کہ بعض لوگ خواہ کتنا ضروری کام کیوں نہ ہو چلتے وقت اس بات کا خیال رکھتے ہیں، اپنے لباس کے بارے بڑے کانشس (Conscious) ہوتے ہیں کہ ان کے لباس ٹھیک ہوں پتلون کی تریز خراب نہ ہو جائے۔کوٹ میں کہیں بدصورت قسم کی سلوٹ یا شکن نہ پڑ جائے۔انہوں نے کہیں جلدی بھی پہنچنا ہو تو تھوڑی تھوڑی دیر بعد اپنے لباس کا جائزہ لیتے ہیں اور اس وجہ سے بعض دفعہ جلدی پہنچنے کی کوشش محدود ہو جاتی ہے۔یہ اس زمانے کی بات نہیں ہے۔آج بھی ایسی مثالیں نظر آ جاتی ہیں اور خاص طور پر ہمارے ایشین معاشرے میں مردوں اور عورتوں کی یہ حالت ہے کہ بعض دفعہ اپنے لباس کے بارے میں بہت زیادہ کانشس ہو جاتے ہیں۔لیکن اس کے مقابلے پر کچھ ایسے بھی ہیں جو بیشک فیشن بڑے شوق سے کرتے ہیں، بڑے شوقین ہوتے ہیں لیکن جب ان کے سامنے کوئی مقصد ہوتو وہ اپنے رکھ رکھاؤ اور فیشن کو قربان کر