خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 621
خطبات مسرور جلد 12 621 خطبه جمعه فرموده مورخه 17 اکتوبر 2014ء دیتے ہیں۔اگر مقصد کے حصول کے لئے اپنے لباس کے رکھ رکھاؤ کے باوجود انہیں دوڑنا پڑے تو وہ دوڑ بھی لیں گے۔کسی جگہ بیٹھنا پڑے تو بیٹھ بھی جائیں گے۔حتی کہ گردوغبار میں بھی اگر ضرورت ہو تو بغیر کسی تکلف کے اس میں چل پڑیں گے۔کیوں؟ اس لئے کہ اصل چیز ان کا مقصود اور مدعا ہوتا ہے کہ ہم نے یہ چیز حاصل کرنی ہے، یہ مقصد حاصل کرنا ہے۔اس لئے وہ کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتے۔اعلیٰ سوٹ یا سفید لباس ان کے مقصد کے حصول میں روک نہیں بنتا۔اس پر مزید روشنی ڈالنے کے لئے کہ لوگ مقصد کے حصول کے لئے کس طرح ظاہری چیز کو قربان کر دیتے ہیں ایک مثال حضرت مصلح موعود نے یہ بھی دی ہے۔یہ تاریخ انگلستان کے ایک واقعہ کی مثال ہے۔تاریخ میں واقعہ آتا ہے کہ ملکہ الزبتھ اول، یہ ملکہ نہیں ) ، 1558ء میں غالباً اس کو تاج ملا تھا تقریباً 45 سال تک ملکہ رہی ہے۔ایک بہت مشہور ملکہ تھی۔بلکہ انگلستان کی عظمت اور طاقت کی بنیاد بھی اسی زمانے میں ہوئی ہے۔اس ملکہ کے متعلق مشہور تھا کہ وہ اپنے درباریوں میں خوش پوشاک اچھے لباس پہننے والے اور خوش وضع لوگوں کو دیکھنا پسند کرتی تھی۔اور جس کا لباس اعلیٰ اور قیمتی نہ ہو وہ دربار میں نہیں آ سکتا تھا۔اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کے ارد گر دخوش وضع اور خوش لباس نو جوانوں کا جمگھٹا لگا رہتا تھا۔ایک دفعہ وہ اپنے قریبیوں کے ساتھ پیدل کہیں جا رہی تھی۔راستے میں جاتے ہوئے ایک دفعہ کچھ کیچڑ آ گیا۔اب تو یہاں بڑی پکی سڑکیں ہیں۔ایک زمانے میں یہاں کافی کچی گلیاں بھی ہوا کرتی تھیں۔بہر حال جہاں بھی وہ جا رہی تھی کیچڑ آیا۔اس وقت اس کے ساتھ انگلستان کی بحریہ کا کمانڈر ان چیف تھا، سر براہ تھا جو ملکہ کا بڑا قریبی اور وفادار تھا اور بڑا خوش پوشاک اچھا لباس پہنے والا نوجوان تھا۔جب راستے میں وہ کیچڑ آیا تو اس نے اپنا ایک بڑا قیمتی کوٹ پہنا ہوا تھا بلکہ وہ کوٹ تھا جو دربار کے لئے خاص ہوتا ہے۔خاص موقعوں پر پہنا جاتا ہے۔اس نے کیچڑ دیکھ فوراً اپنا کوٹ اتارا اور اس کیچڑ کی جگہ جو بالکل تھوڑی سی جگہ تھی اس پر ڈال دیا۔ملکہ کو یہ دیکھ کر بڑا عجیب لگا کہ اتنا قیمتی کوٹ ہے اور اس نے یہ کیچڑ پر ڈال دیا ہے۔اس نے بڑے حیران ہوکر اس سے پوچھا۔ان کا نام ریلے (Raleigh) تھا۔ریلے یہ کیا ہے؟ سر والٹر ریلے ( SirWalter Raleigh ) اس کمانڈر کا نام تھا۔تو اس افسر نے فوراً جواب دیا کہ ریلے کا کوٹ خراب ہونا اس سے بہتر ہے کہ ملکہ کا پیر یا جوتی خراب ہو۔ملکہ کو یہ بات بڑی پسند آئی۔اس کے بعد پھر اس افسر پر اور نوازشات بڑھتی چلی گئیں۔وہ عروج پر پہنچایا گیا۔گو بعد میں جیمز اول کے زمانے میں اس افسر پر