خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 56
خطبات مسرور جلد 12 56 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جنوری 2014ء ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے وہ اپنی والدہ کے جنازہ میں شامل بھی نہیں ہو سکے۔اللہ تعالیٰ اُن کو صبر اور حوصلہ عطا فرمائے اور مرحومہ کے درجات بلند فرمائے۔دوسرا جنازہ مکرم شیخ عبدالرشید شر ما صاحب شکار پور سندھ کا ہے جو 16 جنوری 2014ء کونوے سال کی عمر میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ حضرت شیخ عبدالرحیم شرما صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیٹے تھے۔مولوی عبد الکریم شر ما صاحب جو بڑ المبا عرصہ یہاں رہے ہیں اُن کے بھائی تھے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے نصف صدی سے زائد عرصہ شکار پور سندھ میں جماعت کی بھر پور خدمت کی توفیق پائی۔پارٹیشن سے قبل قادیان میں حضرت مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کارخانے میں انہیں بہت محنت اور اخلاص کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔پاکستان کے قیام کے موقع پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بعض ہدایات تھیں اُن پر عمل کرنے کی توفیق پائی۔اور پھر پارٹیشن کے بعد آپ کا اس وقت یہاں کوئی ایسا کاروبار نہیں تھا تو میرے والد صاحب صاحبزادہ مرز امنصور احمد صاحب کے مشورے کے بعد شکار پور میں گئے۔وہاں اُن کو ایک کارخانہ الاٹ ہو گیا تو پھر انہوں نے وہاں جا کر احمدیوں کو تلاش کر کے جماعت قائم کی۔اس کے پہلے صدر بھی آپ مقرر ہوئے اور اپنے کارخانے کے باغ میں ان کو ایک خوبصورت مسجد بھی بنانے کی توفیق ملی۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ نے آپ کو چار اضلاع سکھر، شکار پور، جیکب آباد اور گونگی کا امیر مقررفرمایا تھا۔1982ء میں ان کی اہلیہ فوت ہوئیں اور اکتیس سال کا عرصہ انتہائی صبر اور حو صلے سے انہوں نے گزارا۔اس دوران 1995ء میں آپ کے بیٹے شیخ مبارک احمد شرما کومخالفانہ فسادات کے دوران شکار پور میں شہید کیا گیا۔پھر 1997ء میں آپ کے دوسرے بیٹے مظفر احمد شرما کو بھی شہید کر دیا گیا لیکن آپ کے پایہ ثبات میں ذرا لغزش نہ آئی۔ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار اور احسان مند ہی رہے۔بہت بہادر اور نڈر انسان تھے۔مخالفین احمدیت کا ایک جلوس اُن کے گھر واقع شکار پور اور فیکٹری پر حملہ آور ہوا تو آپ بہت بہادری سے اکیلے ہی اس کے مقابلے کے لئے باہر نکل کھڑے ہوئے جبکہ پولیس کھڑی تماشا دیکھ رہی تھی۔انہوں نے آگے بڑھ کر جلوس کی قیادت کرنے والے مولوی کو پکڑ لیا۔یہ منظر دیکھ کر سارا جلوس بھاگ گیا۔پولیس والے بھی حیران تھے۔بار بار پوچھتے تھے کہ آپ نے جلوس کو کیسے بھگا دیا۔اس کے بعد یہ اسلام آباد منتقل ہو گئے۔خلافت سے بڑا مضبوط تعلق تھا۔مالی قربانیوں میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔بزرگوں کی طرف سے بھی باقاعدگی سے چندہ دیتے تھے۔پاکستان کی بہت سی مساجد کی تعمیر میں بڑی مالی قربانی دی۔موصی تھے اور پورے سال کا حصہ