خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 597
خطبات مسرور جلد 12 597 خطبه جمعه فرموده مورخه 03 اکتوبر 2014ء چرچ میں تو مجھے آج تک خدا نہیں ملا لیکن جب سے یہاں میں نے خلیفہ المسیح کو نمازیں پڑھاتے دیکھا ہے تو مجھے یہاں خدا نظر آ رہا ہے۔مجھے یہاں خدا مل گیا ہے۔میں نے خلیفہ کے ساتھ سجدے کئے ہیں اور دعائیں کی ہیں“۔اور باقاعدہ وہ ہمارے پیچھے نمازیں پڑھتے رہے۔کہتے ہیں ” مجھے نماز تو نہیں آتی لیکن جو حرکات تم لوگ کرتے تھے وہی ساتھ ساتھ میں کرتا تھا اور سجدے میں جا کے میں نے تم لوگوں کے لئے بہت دعا کی۔پھر پریس کے ذریعہ بھی جو کہ تبلیغ کا، اسلام کا پیغام پہنچانے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔اس کے ذریعے بھی کافی کام ہوا۔ان کا ایک ٹی وی TG4 ہے۔اس میں خبر نشر ہوئی۔اس میں مجھے خطبہ دیتے ہوئے دکھایا گیا۔یہ پورے ملک کا چینل ہے اور ایک اندازے کے مطابق تقریباً پانچ ملین لوگ اس کو دیکھتے ہیں یا کہہ لیں پوری آبادی دیکھتی ہے۔پھر آرٹی ای ریڈیو چینل ہے۔آرٹی ، ٹی وی چینل تو یہاں بھی سکائی پر آتا ہے۔لیکن یہ ریڈیو ہے۔ان کے سنے والوں کی تعداد بھی ایک ملین ہے۔انہوں نے کچھ جمعہ بھی ریکارڈ کیا تھا اور جمعہ کے بعد پھر میرا انٹرویو بھی لیا تھا جس کو انہوں نے اپنے پروگرام میں بغیر کسی ایڈٹ کرنے کے تقریباً اسی طرح دکھا بھی دیا۔پھر آرٹی ون کے نمائندے جنہوں نے انٹرو یولیا تھا۔اسلام کے بارے میں سوال کیا کہ آپ کا نعرہ تو محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں ہے اور جو کچھ مسلمان دنیا میں ہو رہا ہے یہ آپ کو فکر مند یا پریشان نہیں کرتا؟ اس پر میں نے ان کو یہی کہا تھا کہ اسلام تو یہ سکھاتا ہے کہ کسی کا حق نہ ماروہ کسی کی حق تلفی نہ کرو کسی پر زیادتی نہ کرو اور ہم تو اسلام کی حقیقی تعلیم پر عمل پیرا ہیں اور اسی بنیاد پر ، اسی تعلیم پر ہمارا یہ مائو ہے۔ہمیں اسلام نے یہ سکھایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں اور جو اللہ ہے وہ رب العالمین ہے۔تمام جہانوں کا رب ہے۔سب کو پالنے والا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ رحمت للعالمین ہیں۔جب ایک رب ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے اور ایک نبی ہے جو تمام جہانوں کے لئے رحمت ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اسلام کی تعلیم میں کہیں بھی کسی کا حق مارنے اور ظلم کرنے کا ذکر ہو۔پس یہ سب جھوٹ ہے اور اسلام کی تعلیم کی بنیاد ہی یہ ہے۔بہر حال اس پر وہ کافی متاثر ہوئے۔انہوں نے اس کو ریڈیو پر بھی دیا۔پھر اور زیادتیوں کے بارے میں، طالبان وغیرہ کے بارے میں، ISIS کے بارے میں سوال کرتے رہے۔میں نے یہی بتایا کہ سب غلط ہے۔پھر انہوں نے پوچھا کہ دنیا کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں تو میں نے یہ ہی بتایا کہ دنیا جس تیزی سے فسادات میں ملوث ہو رہی ہے اس میں صرف اسلامی ممالک کا سوال نہیں ہے بلکہ اس میں یورپ کے ممالک بھی شامل ہیں اور اب یہ لپیٹ بڑھتی چلی جا رہی