خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 596
خطبات مسرور جلد 12 596 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 اکتوبر 2014ء شامل ہونا میرے لئے اعزاز کی بات ہے اور مجھے بخوبی علم ہے کہ اسلام احمدیت شدت پسندی پر یقین نہیں رکھتی۔جو احمدی اسلام ہے جو حقیقی اسلام ہے یہ دوسرے مذہب کو برداشت کرنے کا درس دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج جماعت احمدیہ نے اس مسجد کا نام حضرت مریم علیہا السلام کے نام پر رکھا ہے۔اور پھر کہتے ہیں کہ ”میں اس بات پر خوش ہوں کہ آپ نے گالوے شہر کا انتخاب کیا۔پھر کہتے ہیں ” جماعت احمدیہ کو میں بحیثیت پولیس افسر یہ یقین دلاتا ہوں کہ جس تعلیم کا آپ پر چار کر رہے ہیں آپ کو ہر قسم کا تحفظ دیا جائے گا۔پاکستان میں یا دوسرے ممالک میں ہماری مسجدوں کو نقصان پہنچایا جارہا ہے اور یہ سب کچھ اسلام کے نام پر ہورہا ہے۔اور عیسائی دنیا اس بات پر فخر کر رہی ہے کہ آپ نے ہمارے شہر میں مسجد بنانے کا انتخاب کیا ہے اور اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ ہر ایک کو عبادت کا حق ہے۔انڈونیشیا میں یا پاکستان میں یا بعض جگہوں پر پولیس کی نگرانی میں تشدد کیا جاتا ہے۔ان ملکوں میں عیسائی دنیا میں پولیس کے افسران کہہ رہے ہیں کہ ہم آپ کو ہر طرح کا تحفظ دینے کے لئے بھر پور کوشش کریں گے۔اسلام کے یہ جو بنیادی اخلاق تھے ان کو اصل میں ان لوگوں نے اپنا لیا اور ہماری مسلمانوں کی اکثریت بھولتی جارہی ہے۔پھر ایک مہمان سیاستدان ایمن صاحب جو بڑے منجھے ہوئے سیاستدان ہیں۔1989ء میں پہلی مرتبہ بطور سینیٹر ان کا انتخاب ہوا۔منسٹر آف سٹیٹ بھی رہ چکے ہیں۔پھر 2002 ء سے 2010ءتک منسٹر آف کمیونٹی اور Rural افیئرز بھی رہے۔2010ء میں منسٹر آف سوشل پروٹیکشن بنے۔یہ کہتے ہیں کہ 2010ء میں مجھے سنگ بنیا درکھنے کی تقریب میں بھی شمولیت کا موقع ملا اور مجھے خوشی ہورہی ہے کہ آج یہ مسجد مکمل ہوگئی اور میں افتتاح کے لئے بھی آیا ہوں۔اور یہ جماعت کی محبت اور پیار کی تعلیم سے بڑے متاثر ہیں۔کہتے ہیں کہ ” جماعت نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ یہ جماعت اپنے اعلیٰ مقاصد کے مطابق ہی کام کر رہی ہے۔اس جماعت نے جس طرح بین المذاہب کانفرنسز کا انعقاد کیا اور مختلف مذاہب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے اس سے میں بہت متاثر ہوا ہوں“۔مسجد کے ساؤنڈ سسٹم کے لئے کمپنی کے مالک مسٹر فنٹن (Mr۔Fintan) ایک عیسائی تھے، وہ آئے ہوئے تھے۔دورے سے پہلے بھی کام کرتے رہے، بعد میں بھی۔انہوں نے مجھے نمازیں پڑھاتے ، جمعہ پڑھاتے بھی دیکھا تو کہتے ہیں کہ میں مذہباً کیتھولک ہوں اور چرچ جاتا ہوں لیکن یہاں آ کر میں نے محسوس کیا ہے کہ میری زندگی میں ایک تبدیلی آرہی ہے۔مجھے مسجد آ کر ایک سکون محسوس ہو رہا ہے۔