خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 595
خطبات مسرور جلد 12 595 خطبه جمعه فرموده مورخه 03 اکتوبر 2014ء ایک ہی طرح کے ہیں۔بالکل ایسے جس طرح میڈیا میں نظر آتا ہے کہ مسلمان دہشتگردی کر رہے ہیں اور ظلم کر رہے ہیں لیکن خلیفہ کا خطاب سن کر میں بہت متاثر ہوا۔بالخصوص امن کا پیغام اور آپ کا یہ ماٹو دیکھ کر کہ محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں“۔اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جماعت احمدیہ اس پر عمل بھی کرتی ہے جس کی وہ تبلیغ کرتے ہیں اور دنیا کو آجکل اس پیغام کی سخت ضرورت ہے۔دنیا کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اسلام میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جوصرف اور صرف محبت کا پیغام پھیلاتی ہے۔پس جہاں جہاں جب ہم یہ پیغام سنتے ہیں تو خوش نہ ہو جائیں بلکہ اسی طرح ہمارا احساس ذمہ داری بڑھتا چلے جانا چاہئے۔ایک خاتون کو نسلر کہتی ہیں کہ ”میرے خیال میں جب ہم اس تقریب میں آئے ہیں تو ہر شخص کچھ نہ کچھ tense ضرور تھا لیکن جب خلیفہ نے اپنے خطاب میں اس بات کا ذکر کر دیا کہ یہاں پر موجود بعض لوگ اسلام کے متعلق خوف و خدشات رکھتے ہوں گے تو جو نہی خلیفہ نے اس بات کا اظہار کیا، ہر ایک مطمئن سا ہو گیا اور پھر بڑے آرام سے یہ خطاب سنا“۔پھر ایک اخباری صحافی کہتے ہیں کہ یہ خطاب سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔کہتے ہیں کہ ” تقریر میں انہوں نے اسلام احمدیت کی وضاحت کی اور بتایا کہ بعض شدت پسندوں نے اسے بگاڑ دیا ہے۔خلیفہ نے بڑے عمدہ رنگ میں اسلام کی امن، محبت اور برداشت کا مذہب ہونے کی تعلیم پیش کی اور یہ تقریر مدلل اور واضح تھی۔یہ بھی سن کر بڑا علم حاصل ہوا۔کہتے ہیں میں گزشتہ گیارہ سال سے جماعت کو جانتا ہوں۔جماعت انٹرفیتھ پروگرامز بھی کرتی ہے۔لیکن ان کا یہ خیال تھا کہ شاید وہاں رہنے والے لوگ دکھانے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔اصل تعلیم کچھ اور ہے۔لیکن آج جب مجھے ملے اور سارا کچھ دیکھا تو جماعت کے بارے میں ان کی تسلی مزید بڑھی۔ایک مہمان تھیں جو آئر لینڈ قومی اسمبلی کی ممبر ہیں۔پہلے تو شکر یہ ادا کرتی ہیں۔کہتی ہیں اپنے حلقے میں بہت سے احباب کو جانتی ہوں اور لوکل سطح پر یہ احمدی سارے بڑے فعال ہیں۔ہمارے معاشرے میں بڑا کردار ادا کر رہے ہیں۔جماعت کی خواتین کی تنظیم بھی ہمیں چیریٹی دیتی ہے۔بہر حال یہ چیریٹی بھی ہر تنظیم کی طرف سے، جماعت کی طرف سے بھی ان تنظیموں کو دینی چاہئے۔اس سے بھی تعارف بڑھتا ہے اور تعارف بڑھنے سے پھر تبلیغ کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔پھر گالوے کا ؤنٹی کی ایک ڈویژن کے جو پولیس چیف سپر نٹنڈنٹ تھے ، وہ کہنے لگے کہ اس میں