خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 594 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 594

خطبات مسرور جلد 12 594 خطبه جمعه فرموده مورخه 03 اکتوبر 2014ء ذکر کیا۔تو یہ اسلام کی حقیقی تعلیمات کا پتا لگنے کے بارہ میں بہت سارے لوگوں کے کومنٹس (comments) ہیں۔پھر ایک یہ بھی ہے کہ یہ خطاب حکمت سے پر اور دل کو چھو لینے والا تھا۔پھر ایک مہمان خاتون تھیں، کہتی ہیں جو امن کا پیغام دیا ہے اور جہاد کی وضاحت کی ہے اس سے میں بہت متاثر ہوئی ہوں اور مسجد کا نام ہی معاشرے میں ہم آہنگی کو فروغ دے رہا ہے۔یہاں آکر اسلام کے متعلق مجھے ایک نئی قسم کی آگاہی ہوئی ہے۔پھر گالوے کاؤنٹی کے ایک کونسلر ٹام ہیلے (Tom Healy) کہتے ہیں کہ اللہ کرے کہ آپ کا پیغام ساری دنیا میں گونجے اور آپ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی سفیر بنیں“۔تو اس طرح یہ عیسائی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی عزت کر رہے ہیں اور اس پیغام کو، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو پہنچانے کی دعا دے رہے ہیں۔پھر ایک خاتون مہمان جو ایجوکیشن فاؤنڈیشن ڈبلن کی ڈپٹی پرنسپل تھیں ، کہتی ہیں کہ ” مجھے مسجد کا یہ نام مریم رکھنا بڑا اچھا لگا۔اور اس خطاب سے مجھے پتا چلا کہ اسلام میں مریم کا کیا مقام ہے اور قرآن کریم میں حضرت مریم علیہا السلام کی تعریف بیان کی گئی ہے۔میرے نزدیک یہ بہت دلکش نکتہ ہے جو ان تمام عیسائیوں کو بتانا چاہئے جو اسلام کے خلاف بولتے ہیں۔اسلام کے متعلق مجھے اتنا علم نہ تھا لیکن خلیفہ اسیح کا خطاب سن کر اب مجھ پر اسلام کا انتہائی اچھا تاثر قائم ہو گیا۔ایک جرنلسٹ خاتون مسنز بر تھا (Mrs۔Bertha) آئی ہوئی تھیں۔کہتی ہیں کہ آج سے پہلے میں اسلام سے بالکل واقف نہ تھی۔میں نے آج کا سارا دن مسجد مریم میں گزارا ہے اور خلیفہ کا خطبہ جمعہ اور مسجد مریم کے حوالے سے افتاحی خطاب سنا ہے۔میں نے یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے کہ احمدی لوگ کس قدر خوش مزاج ہیں“۔پس یہ نمونے ہیں جو متاثر کرتے ہیں، یہ نمونے بھی ہمیں دکھانے چاہئیں۔پھر ایک آئرش خاتون کہتی ہیں کہ اسلام کے متعلق مجھے زیادہ علم نہ تھا مجھے صرف اس حد تک ہی علم تھا جو خبروں میں نظر آتا ہے یعنی خود کش دھما کے اور دہشتگردی۔لیکن خلیفہ نے جس اسلام کا بتایا ہے وہ تو بالکل مختلف ہے وہ اسلام تو محبت اور امن کا پرکشش پیغام دیتا ہے“۔ایک مہمان جو کو نسلر بھی ہیں، کہتے ہیں کہ ” یہاں آنے سے پہلے میں سمجھتا تھا کہ سارے مسلمان