خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 592 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 592

خطبات مسرور جلد 12 592 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 اکتوبر 2014ء مسلمانوں سے علیحدہ رکھنے کی کوشش کرتی ہے اور اگر کبھی موقع ملے بھی تو ہم بات چیت کرنے کی طرف راغب نہیں ہوتے۔اسی طرح ایک نے سوال کیا کہ کیا کوئی ایسا موقع کبھی ہوا ہے یا اگر پیدا کیا جائے کہ غیر از جماعت یا غیر احمدی علماء سے یا ان کے لیڈروں سے جو جماعت کے خلاف ہیں بیٹھ کرکسی پلیٹ فارم پر بات کی جائے تو میں نے کہا ہم تو ہمیشہ تیار ہیں اور اگر تم لوگ کوئی ایسا پلیٹ فارم مہیا کر سکتے ہو تو ہم وہاں بھی جانے کو تیار ہیں اور مجھے پتا ہے کہ وہ لوگ نہیں آئیں گے۔گزشتہ دنوں یہاں ہی بی بی سی نے ایک پروگرام کرنا تھا۔ہمارے ایک نوجوان جو ٹیم کے ممبر ہیں۔ان کو انہوں نے بلایا کہ تمہارا مؤقف بھی سنیں گے اور دوسرے غیر از جماعت کو بھی بلایا۔لیکن جب ان کو پتا لگا کہ احمدی وہاں آ رہا ہے تو انہوں نے آنے سے انکار کر دیا تو یہ تو ان کا حال ہے۔کیونکہ پتا ہے کہ حقیقت ان کے پاس کچھ نہیں اور جو کچھ ہے اس کی بنیاد ہی جھوٹ پر ہے۔پھر عورتوں کی آزادی کے حوالے سے بات ہوئی۔ان کو سمجھایا گیا تو ان کی کافی تسلی ہوئی۔پھر فرقہ واریت کے بارے میں بھی انہوں نے سوال کئے کہ کیوں شیعہ سنی ہیں؟ اس پر میں نے ان کو بتایا کہ جس طرح یہودی اور عیسائی فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں اسی طرح اسلام میں بھی ہیں لیکن اسلام کے ان فرقوں کی پیشگوئی تو پہلے سے ہی تھی اور یہی جماعت احمدیہ کی بنیاد کی وجہ ہے کیونکہ آنے والے نے ان سب فرقوں کو اکٹھا کرنا تھا جو کام اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ کر رہی ہے۔بہر حال ان ساری باتوں کا ان پر بڑا اچھا اثر تھا۔اس میں سے کچھ لوگ وہاں بھی آئے جو مسجد میں جمعہ والے دن ریسپشن ہوئی تھی۔تقریباً ایک سو سے زائد یہ مہمان تھے جن میں سے پانچ ممبران نیشنل پارلیمنٹ تھے۔دوسینیٹر تھے۔سٹی کونسل کے ممبر تھے۔چیف سپر نٹنڈنٹ گالوے پولیس تھے۔بشپ گالوے کے نمائندے تھے۔یہ خود بھی بشپ ہیں۔کونسلرز، استاد، ڈاکٹر، انجنیئر ز اور وکلاء وغیرہ مختلف لوگ آئے ہوئے تھے۔بہر حال ایک اچھے ماحول میں یہ ریسپشن بھی ہوئی۔ایک مہمان سیاستدان جان ریبٹ (John Rabbit ) ہیں۔اس فنکشن کے بعد وہ کہتے ہیں کہ آج کی تقریب نے مجھے up lift کر دیا ہے۔میں خلیفہ مسیح کے خطاب سے بہت متاثر ہوا ہوں۔کی میرا اسلام کے بارے میں نظریہ یکسر تبدیل ہو گیا ہے۔کہتے ہیں کہ میرا ایک دوست سعودی عرب میں رہتا ہے وہ مجھے اسلام کے بارے میں جو باتیں بتا تا ہے اس کے برعکس میں نے یہاں خوبصورت اسلام کو دیکھا ہے۔آپ کی باتیں سن کے مجھے پتا لگا کہ اسلام واقعی پر امن، محبت و پیار اور ایک دوسرے کے لئے ہمدردی اور رواداری رکھنے والا مذہب ہے۔