خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 591
خطبات مسرور جلد 12 591 خطبه جمعه فرموده مورخه 03 اکتوبر 2014ء جب میں وہاں آئر لینڈ میں پہنچا ہوں تو اگلے دن جماعت نے پارلیمنٹ ہاؤس میں سپیکر اور بعض پارلیمنٹیرین کے ساتھ ملاقات کا ایک پروگرام رکھا ہوا تھا جو بڑے اچھے ماحول میں ہوا۔آئر لینڈ کی نیشنل پارلیمنٹ کے سپیکر سے ملاقات ہوئی۔بڑے ملنسار اور کھلے دل کے اور انسانی ہمدردی رکھنے والے انسان ہیں۔انصاف پسند شخصیت ہیں۔انہوں نے بتایا کہ میرا جماعت سے تعارف ہے اور آپ کی جماعت کے کاموں کو میں قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔اگر چہ یہ جماعت یہاں چھوٹی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی فعال ہے۔اپنے حوالے سے انہوں نے افریقہ کی بعض مشکلات اور مسائل کا بتایا کہ میں روانڈا میں گیا تھا تو وہاں بھی میں نے دیکھا ہے۔بہر حال ان سے باتیں ہوئیں اور جماعت افریقن ممالک میں جو خدمت کر رہی ہے اس کے بارے میں ان کو میں نے بتایا کہ کس طرح ہم ہسپتال، سکول چلا رہے ہیں۔غریب لوگوں کو پینے کا پانی مہیا کر رہے ہیں اور دوسرے رفاہی کام جو ہیں وہ کر رہے ہیں اور یہ سب کچھ بغیر کسی تفریق مذہب و ملت کے ہو رہا ہے۔جس چیز نے ان کو حیران کیا وہ یہ تھی کہ میں نے ان کو جب بتایا کہ ہمارے سکولوں میں مذہبی تعلیم بھی دی جاتی ہے لیکن اس میں آزادی ہے کوئی زبردستی نہیں۔ہر مذہب کے طلباء اپنے اپنے مذہب کی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔بائبل نالج بھی پڑھائی جاتی ہے۔یہ سن کر پیکر صاحب نے بڑی حیرانی کا اظہار کیا کیونکہ عیسائی مشن کے جو سکول ہیں وہ زبردستی صرف عیسائیت کی تعلیم دیتے ہیں اور بائبل نالج پڑھاتے ہیں۔مسلمانوں کو بھی زبردستی پڑھنی پڑتی ہے۔تو یہ سن کر کہ اس طرح کی آزادی ہماری طرف سے ہے ان کے لئے یہ بڑی حیرت کی بات تھی۔پھر خود ہی دہشتگردی کے حوالے سے یہ بھی کہنے لگے کہ بعض جگہ عیسائیوں کی طرف سے بھی ظلم ہوتا ہے لیکن عیسائیت کو کوئی الزام نہیں دیتا۔اس پر میں نے کہا یہی فرق ہے کہ مسلمانوں سے دنیا میں تعصب کا اظہار ہو رہا ہے کہ عیسائیت کی طرف سے اگر کوئی غلطی ہو تو عیسائیت کو بدنام نہیں کیا جاتا لیکن ایک مسلمان اگر کوئی غلطی کرتا ہے یا ظلم کرتا ہے تو اسلامی تعلیم کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔بہر حال خود ہی یہ ان کا خیال تھا۔اس لئے انہوں نے بڑی ہاں میں ہاں ملائی۔اسی طرح پھر میں کے قریب پارلیمنٹیرین کے ساتھ بھی ملاقات ہوئی۔وہاں ہمارے ایک ممبر آف پارلیمنٹ ایمن کین (Eamon O'Cuin) ہیں جنہوں نے میرا تعارف بھی کرایا اور اس کے بعد جماعت کے کاموں کی تعریف کی۔پرانے جماعت کو جانتے ہیں۔وہاں کچھ سوال بھی ہوئے جہاں میں نے ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد اور اس کا سارا تعارف کرایا۔باقی باتیں بھی ہوئیں۔یہ سیاستدان سمجھتے ہیں کہ شاید جماعت احمد یہ اپنے آپ کو دوسرے