خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 593 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 593

خطبات مسرور جلد 12 593 خطبه جمعه فرموده مورخه 03 اکتوبر 2014ء میں نے مختلف لوگوں کے تھوڑے تھوڑے فقرے لئے ہیں۔ڈپٹی میئر گالوے کا ؤنٹی کا کافی لمبا بیان ہے۔تھوڑا سا حصہ بیان کر رہا ہوں۔وہ کہتے ہیں کہ مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایک جگہ جمع ہوتے دیکھنا نہایت خوشی کی بات ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ آئر لینڈ اور بالخصوص گالوئے شہر اسلام احمدیت کو خوش آمدید کہتا ہے۔تو یہ اسلام کی خوبصورت تعلیم ہے۔مخالفین بھی ، دوسرے مذہب رکھنے والے بھی خوش آمدید کہتے ہیں۔پھر ڈپٹی سپیکر نیشنل پارلیمنٹ مائیکل پیرکٹ (Michael P۔Kitt ) نے کہا: ” یہ بڑی خوبصورت تقریب تھی اور میرے پیغام کے بارے میں کہا کہ محبت اور امن کے بارے میں یہ خطاب میرے لئے بہت حوصلہ افزا ہے اور اس خطاب سے پتا چلتا ہے کہ محبت کے پیغام میں کتنی طاقت ہے۔پھر ایک مہمان جو تقریب میں آئے ، کہتے ہیں کہ ”میں بہت خوش ہوں اور آپ کے محبت اور امن کے پیغام سے بہت متاثر ہوا ہوں۔میں اس پیغام کو اپنے دیگر احباب تک پہنچاؤں گا“۔پھر ایک مہمان ڈرڈ ری میک کینا (Deirdre Mc Kenna) کہتے ہیں کہ مختلف بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایک جگہ متحد دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔اللہ کرے کہ آج کی یہ تقریب ہمارے معاشرے میں کشادہ دلی کی روایات کا آغاز کرنے والی ثابت ہو اور آئر لینڈ کے تمام لوگ اس کا حصہ بن جائیں تا کہ ہم باہم مثبت تعلقات استوار کرتے ہوئے زندگی گزارناسیکھیں اور آئر لینڈ میں ایک بہترین مستقبل کی بنیاد پڑے“۔تو یہ ہے جماعت کی خوبصورت تعلیم ، اسلام کی خوبصورت تعلیم جو جماعت پیش کرتی ہے اور غیروں کو بھی مجبور کرتی ہے کہ وہ اس تعلیم کو اپنانے کی طرف توجہ دیں۔پھر ایک مہمان نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ آجکل لوگ اسلام سے بہت خوفزدہ ہیں مگر اس تقریب نے ہم سب کو مذہبی برداشت کا درس دیا ہے۔خلیفہ نے ہمیں اسلام اور قرآن کی محبت اور امن کی تعلیمات سے آگاہ کیا جو ہم سب کے لئے بہت اطمینان بخش تھا۔آج کی تقریب سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے۔پھر ایک مہمان جینی مکلین (Jenny Mc Clean ) میرے خطاب کے بارے میں کہتے ہیں کہ انہوں نے بعض بہت ہی اہم امور کا ذکر کیا اور کہتے ہیں کہ ہر شخص جو خلیفہ کا خطاب سن رہا تھا بہت متاثر دکھائی دیا۔اور یہ بھی اہم بات تھی کہ خلیفہ نے اپنے خطاب میں مسلمان دنیا میں موجود تضادات کا بھی