خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 586 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 586

خطبات مسرور جلد 12 586 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 ستمبر 2014ء دوسرے مسلمانوں کے بارے میں تو کہہ دیتے ہو کہ انہوں نے مسیح موعود کو نہیں مانا اس لئے ان کی یہ حالت ہے کہ وہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹ رہے ہیں اور رُحماء بینہم کا اُن سے اظہار نہیں ہوتا اور وہ اس کے الٹ کام کر رہے ہیں۔لیکن تم نے جو مسیح موعود کو مانا ہے تمہارے تو ہر عمل کو تمہارے کہنے کے مطابق قرآنی تعلیم کے مطابق ہونا چاہئے۔اگر نہیں تو پھر تم ہمیں کس روحانی اور عملی انقلاب کی طرف بلا رہے ہو۔جیسے تم ویسے ہم۔ہمارے میں اور تمہارے میں فرق کیا ہے۔پس ہمیشہ ہمیں یا درکھنا چاہئے کہ جہاں احمدی، احمدی کی حیثیت سے جانا جاتا ہے وہاں اس کی ذمہ داریاں بہت بڑھ جاتی ہیں۔وہ صرف احمدی نہیں رہتا بلکہ مسیح موعود کا نمائندہ بن جاتا ہے۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ہماری طرف منسوب ہو کر ہمیں بدنام نہ کرو۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 7 صفحہ 188) پس ایک احمدی کے کسی بُرے عمل کا اثر صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات تک پہنچ جاتا ہے۔یہ بہت اہم بات ہے جسے ہر احمدی کو اپنے پیش نظر رکھنا چاہیئے اور جب یہ سب کچھ پیش نظر ہو گا تو ہر احمدی احمدیت کا سفیر بن جائے گا۔ہر تعارف اس کو دنیا کی نظروں میں اتنا بڑھائے گا کہ وہ آپ کی طرف لپک کر آئے گا۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نمائندہ بن جائیں گے۔تبلیغ کا حق ادا کرنے والے بن جائیں گے۔دنیا والوں کی دنیا اور آخرت سنوار نے والے بن جائیں گے۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والے بن جائیں گے۔پس اس کے حصول کے لئے ہمیں بھر پور کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔اپنی پنجوقتہ نمازوں کو باجماعت اور سنوار کر ادا کرنے کی ضرورت ہے۔مسجد کا حق ادا کرنے کی ضرورت ہے۔فرائض کے ساتھ نوافل کے ذریعہ بھی خدا تعالیٰ سے تعلق جوڑنے کی ضرورت ہے۔حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ہر احمدی مرد اور عورت کو اپنی ذمہ داری سمجھنے کی ضرورت ہے۔ہم بڑے شوق سے یہاں کے رہنے والوں کو بتاتے ہیں کہ ہم نے اس مسجد کا نام مسجد مریم رکھا ہے کیونکہ لوگ حضرت مریم کا بڑا احترام کرتے ہیں۔ہم انہیں یہ کہتے ہیں کہ حضرت مریم تمہیں بھی پیاری ہیں کہ حضرت عیسی کی والدہ ہیں لیکن صرف حضرت عیسی کی ماں ہونے کی وجہ سے وہ ہمیں پیاری نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی نیکی اور تقویٰ کے معیار کو بھی دیکھ کر ان پر پیار کی نظر ڈالی اور مومنوں کو کہا کہ تم مریم جیسی خصوصیات پیدا کر و۔مریم نے اپنی ناموس کی حفاظت کی اور یہ حفاظت خدا تعالیٰ کی محبت اور خوف کی