خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 585 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 585

خطبات مسرور جلد 12 585 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 ستمبر 2014ء کیا لوگ مجھے پوچھیں گے نہیں کہ تمہارے اندر اس مسیح نے کیا تبدیلی پیدا کی ہے جو تم مجھے پاک تبدیلیاں پیدا ہونے کا لالچ دے کر اس مسیح موعود کو ماننے کی طرف توجہ دلا رہے ہو۔تمہارا اپنا خدا تعالیٰ سے کتنا تعلق پیدا ہو گیا ہے جو تم مجھے خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا ہونے کا لالچ دے کر مسیح موعود کو قبول کرنے کی دعوت دے رہے ہو۔تمہارا دین تمہیں کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حق اس کی عبادت کر کے ادا کر و بلکہ تمہارے تو قرآن کریم میں یہ لکھا ہوا ہے کہ انسانی زندگی کا مقصد خدا کی عبادت کرنا ہے اور اسی لئے تمہیں پیدا کیا گیا ہے۔کتنی نمازیں ہیں جو تم باجماعت ادا کرتے ہو؟ تم نے مسجد تو خو بصورت بنالی لیکن اس کی خوبصورتی تو نمازیوں کی حالت سے ہے۔ان سے ہی چمک اور ابھرتی ہے۔کیا تم لوگ پانچ وقت نمازیں مسجد میں پڑھتے ہو؟ کیا تم اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق ادا کرتے ہو؟ قرآن کریم تو تمہیں کہتا ہے کہ تم خیر امت ہو جولوگوں کے فائدے کے لئے پیدا کئے گئے ہو کیونکہ تم نیکیوں کی تلقین کرتے ہو اور برائیوں سے روکتے ہو۔پوچھنے والے ہمیں پوچھیں گے کہ کیا صرف تلقین کرنے سے تمہارا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔اگر نہیں تو پہلے اپنے جائزے لو کہ کیا تم جو کہہ رہے ہو اس پر تم عمل بھی کر رہے ہو۔پوچھنے والے پوچھیں گے کہ رشتے داروں اور لوگوں سے حسن سلوک کی تم باتیں کرتے ہو لیکن تمہارے اپنے عمل کیا اس کے مطابق ہیں۔اپنی امانتوں کی ادائیگی اور عہدوں کے پورا کرنے کی تم باتیں کرتے ہو کیا امانتوں کا حق ادا کر نے اور عہدوں کو پورا کرنے کے تم سو فیصد پابند ہو۔تم قربانی اور عاجزی کی باتیں کرتے ہولیکن کیا اس کا اظہار تمہارے ہر قول و فعل سے ہو رہا ہے۔تم یہ تو کہتے ہو کہ اسلام ہمیں حسن ظنی کی تعلیم دیتا ہے لیکن کیا اس حسن ظنی کو تم نے اپنی روزمرہ زندگی پر لاگو بھی کیا ہوا ہے یا نہیں۔تم کہتے ہو کہ قرآن کریم ہمیں سچائی پر قائم رہنے کی بڑی تلقین کرتا ہے لیکن کئی مواقع پر تو میں نے دنیاوی فوائد کے حصول کے لئے تمہیں خود جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے دیکھا ہے۔یہ کوئی بھی ہمیں کہ سکتا ہے اگر ہمارا عمل اس کے سامنے ہے۔تم کہتے ہو کہ اسلام تعلیم دیتا ہے کہ اپنے غصے کو دبا ؤ اور عفو کا سلوک کرو۔تعلیم تو بڑی اچھی ہے لیکن کیا تم اپنے روز مرہ کے معاملات میں ان باتوں کا اظہار بھی کرتے ہو۔تم اسلام کی ایک بڑی خوبصورت تعلیم مجھے بتا رہے ہو کہ عدل وانصاف کو قائم رکھنے کے لئے تمہارا معیار اتنا اونچا ہونا چاہئے کہ دشمن کی دشمنی بھی تمہیں اس سے بے انصافی کرنے اور اس کا حق غصب کرنے پر نہ اکسائے لیکن کیا تم دوسروں کو معاف کرنے اور انصاف کے قیام کے لئے یہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہو اور اس کا حوصلہ رکھتے ہو۔تمہارے سارے احکامات جو قرآن کریم کے حوالے سے تم بتاتے ہو بڑے اچھے اور خوبصورت ہیں لیکن کیا تم ان پر عمل کر رہے ہو۔تم