خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 587
خطبات مسرور جلد 12 587 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 ستمبر 2014ء وجہ سے کی۔وہ خدا تعالیٰ کی کامل فرمانبردار تھیں اور اس کے حکموں پر عمل کرنے والی تھیں۔وہ راستباز اور سچائی پر قائم رہنے والی تھیں۔پس ہر حقیقی مسلمان مرد اور عورت کو اللہ تعالیٰ نے ان مومنانہ صفات کو اپنانے کا حکم دیا ہے۔میں یہاں ان احمدی لڑکیوں اور عورتوں کو بھی کہوں گا کہ اگر یہاں کے لوگ حضرت مریم کی عزت کرتے ہیں اور صرف عزت ہی کرتے ہیں اور ان صفات کو اپنانے کی کوشش نہیں کرتے جوان میں تھیں تو یہ ان کی کمزوری ہے۔ایک حقیقی مسلمان مرد اور عورت کو تو حضرت مریم کی طرح اللہ تعالیٰ کا حقیقی فرمانبردار ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے کی کوشش کرنی چاہئے اور ان حکموں میں سے حیا اور پردہ بھی ایک حکم ہے جس کا قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ اپنے حیا دار لباس کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ سب کو اپنی رضا کے مطابق زندگیاں گزار نے اور حقیقی مومن بننے کی توفیق عطا فرمائے۔دنیا میں ڈوبنے کی بجائے عبادتوں کا حق ادا کرنے والا بنائے۔ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کو ادا کرنے والا بنائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ ہمیں نصیحت فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : میں سچ کہتا ہوں کہ یہ ایک تقریب ہے جو اللہ تعالیٰ نے سعادتمندوں کے لئے پیدا کر دی ہے، یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آنا۔” مبارک وہی ہیں جو اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔تم لوگ جنہوں نے میرے ساتھ تعلق پیدا کیا ہے اس بات پر ہرگز ہرگز مغرور نہ ہو جاؤ کہ جو کچھ تم نے پانا تھا پا چکے۔یہ سچ ہے کہ تم ان منکروں کی نسبت قریب تر بہ سعادت ہو جنہوں نے اپنے شدید انکار اور تو ہین سے خدا کو ناراض کیا اور یہ بھی سچ ہے کہ تم نے حسن ظن سے کام لے کر خدا تعالیٰ کے غضب سے اپنے آپ کو بچانے کی فکر کی۔لیکن سچی بات یہی ہے کہ تم اس چشمہ کے قریب آ پہنچے ہو جو اس وقت خدا تعالیٰ نے ابدی زندگی کے لئے پیدا کیا ہے۔ہاں پانی پینا ابھی باقی ہے۔پس خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے تو فیق چاہو کہ وہ تمہیں سیراب کرے کیونکہ خدا تعالیٰ کے بدوں کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔خدا تعالیٰ ہی ہے جو تو فیق دیتا ہے۔یہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ جو اس چشمے سے پیئے گا وہ ہلاک نہ ہوگا کیونکہ یہ پانی زندگی بخشتا ہے اور ہلاکت سے بچاتا ہے اور شیطان کے حملوں سے محفوظ کرتا ہے۔اس چشمہ سے سیراب ہونے کا کیا طریق ہے؟ یہی کہ خدا تعالیٰ نے جو دو حق تم پر قائم کئے ہیں ان کو بحال کرو اور پورے طور پر ادا کرو۔ان میں سے ایک