خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 584 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 584

خطبات مسرور جلد 12 584 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 ستمبر 2014ء کی ضرورت ہے تا کہ دینی اور علمی جوابات دے سکیں اور عملی حالتوں کو بھی اس معیار کے مطابق لانے کی ضرورت ہوگی جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیں دیکھنا چاہتے ہیں۔اور جس کے بارے میں میں پہلے بتا چکا ہوں کہ وہ معیار کیا ہے؟ وہ معیار قرآن کریم کے تمام احکامات پر عمل کرنا ہے۔اپنے ایسے نمونے قائم کرنا ہے کہ یہاں کے رہنے والے خود بخود آپ کی طرف متوجہ ہوں۔اس ملک میں بھی مذہبی رجحان بہت زیادہ ہے۔یورپ میں یہ ملک ہے جس میں ابھی تک امیر لوگ بھی، دنیا دار بھی ، غریب بھی اپنے عیسائی ہونے کے حوالے دیتے ہیں اور اظہار کرتے ہیں کہ ہم مذہبی ہیں اور حضرت عیسی کے حوالے سے عیسائیت کو اپنا نجات دہندہ مذہب سمجھتے ہیں۔ان کو ہم نے بتانا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام ہماری تعلیم کے مطابق اللہ تعالیٰ کے برحق نبی تھے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنے سپر د مفوضہ کام کو احسن طریق پر سرانجام دے کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔اصل طاقتوں کا مالک اور تمام جہانوں کا رب خدائے واحد دیگا نہ ہے جس کی حضرت عیسی علیہ السلام نے بھی عبادت کی اور آپ کی پاکیزہ والدہ حضرت مریم نے بھی عبادت کی۔اور پہلے انبیاء کی پیشگوئیوں کے مطابق آخری اور کامل شریعت لے کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہیں۔اور یہی شریعت کامل اور نجات دلانے والی ہے۔خدا تعالیٰ کا قرب دلانے والی ہے اور دنیا و آخرت سنوار نے کا ذریعہ بننے والی ہے لیکن صرف دعوی کرنے سے نہیں بلکہ اس شریعت پر عمل کرنے سے۔ان کو بتانا ہوگا کہ اسلام کے زندہ مذہب ہونے کی دلیل یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں مسیح موعود علیہ السلام آچکے ہیں جنہوں نے ہمیں خدا تعالیٰ سے ملایا۔وہ خدا جو ہماری دعاؤں کو سنتا بھی ہے اور قبول بھی کرتا ہے جو اپنے وعدے کے مطابق اپنے نشانات بھی دکھا رہا ہے۔پس اب دنیا کی بقا اس مسیح موعود کو ماننے میں ہے۔اللہ تعالیٰ سے زندہ تعلق اس مسیح موعود کی آغوش میں آنے سے ہی پیدا ہو گا۔لیکن کیا ہم یہ باتیں دوسروں کو بغیر کسی جھجک کے کہہ سکتے ہیں یا ہمیں رک کر سوچنا پڑے گا کہ کہوں یا نہ کہوں؟ کیا اگر دوسرے نے مجھے قبولیت دعا کا چیلنج دے دیا تو میں اس حالت میں ہوں کہ اسے قبول کروں۔کیا میرا خدا تعالیٰ سے تعلق ہے۔کیا میں خدا تعالیٰ کا خوف اور اس کی محبت اپنے دل میں رکھتے ہوئے اپنی زندگی کو اس کے بتائے ہوئے احکامات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہوں ؟ اگر نہیں تو پھر ایک احمدی ہونے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری کا احساس کئے بغیر اور انہیں نبھائے بغیر میں کس طرح دنیا کو دعوت دے سکتا ہوں۔دنیا کو کس طرح بتا سکتا ہوں کہ یا روسیح جو آنے کو تھا وہ تو آ چکا۔