خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 552
خطبات مسرور جلد 12 552 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 ستمبر 2014ء صداقت کا پیغام پہنچانا، ان کی رہنمائی کرنا آج ہمارا کام ہے۔یہ ہمارا فرض ہے۔پس اس کام کی ادائیگی کی طرف جہاں ہمیں کوششوں کی ضرورت ہے وہاں اپنی عملی حالتوں کو اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق ڈھالنے کی بھی ضرورت ہے تا کہ ہمارے عملی نمونے نئے آنے والوں کے ایمانوں کو مزید مضبوط کرتے چلے جائیں۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کی تائیدات اور کس طرح اللہ تعالی رہنمائی فرماتا ہے اس کے نمونے پیش کروں گا۔تیونس سے ایک صاحبہ منیہ صاحبہ ہیں وہ لکھتی ہیں کہ مجھے مطالعہ کا بڑا شوق ہے۔میں نے قرآن کریم اور کئی دوسری اسلامی کتب کا بھی مطالعہ کیا لیکن کئی باتوں کی سمجھ نہیں آتی تھی۔مثلاً سورۃ النساء کی آیت وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلكِن شُبّهَ لَهُمْ - (النساء : 158) اسی طرح وفات مسیح کے متعلق دوسری آیات ہمیشہ میری توجہ کا مرکز رہیں کہ کیا مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں یا زندہ آسمان پر ہیں؟ پھر ریاض الصالحین میں دجال کے اوصاف پڑھے اور خیال آیا کہ خیر امت میں اللہ تعالیٰ ایسا شخص کیسے بھجوا سکتا ہے؟ خیال آتا تھا کہ عیسی علیہ السلام آسمان پر بیٹھے کیا کر رہے ہیں؟ ان خیالات سے پریشان ہو جاتی تھی اور اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی دعا کرتی تھی۔اچانک ایک روز چینل بدلتے ہوئے ایم۔ٹی۔اے مل گیا جو دوسرے تمام دینی چینلز سے مختلف تھا اس پر ایک پادری کے ساتھ وفات مسیح پر بحث چل رہی تھی۔دوسرے چینلز کے برعکس میز بان اور شرکاء کی گفتگو بڑی پر وقار تھی۔اس دوران معلوم ہوا کہ مسیح موعود حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام ظاہر ہو چکے ہیں۔پھر باقاعدگی سے ایم۔ٹی۔اے دیکھتی رہی اور سارے مسائل آہستہ آہستہ سمجھ آتے گئے۔پھر میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مجھے موت نہ آئے جب تک احمدی نہ ہو جاؤں۔بالآخر میں بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں داخل ہو گئی۔یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے۔پھر یمن سے رمدان صاحب اپنی بیعت کا واقعہ لکھتے ہیں کہ مجھے چین میں جا کے چینی معاشرے میں رہنے کا موقع ملا اور ان کو بہت اچھے لوگ پایا۔یہ بھی دیکھا کہ بعض عرب ان کے حسن معاملہ سے ناجائز فائدہ اٹھاتے اور ان کو برا بھلا بھی کہتے۔مجھے خیال آتا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ لوگ اپنے تمام حسن اخلاق اور حسن عمل کے باوجود جہنم میں جائیں اور ہم صرف نام کے مسلمان ہونے پر جنت کے وارث ٹھہریں؟ اس کے بعد کہتے ہیں، میں نے تحقیق کی اور اسلامی کتب پڑھنی شروع کیں۔یہ تحقیق جاری رہی۔مختلف اسلامی کتب اور چینلز دیکھے اسی دوران ایک روز اچانک ایم۔ٹی۔اے دیکھنے کا موقع مل گیا۔اس میں بیان