خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 551 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 551

خطبات مسرور جلد 12 551 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 ستمبر 2014ء اسلام کی طرف توجہ کرتی تھی تو جماعت کا لٹریچر پڑھنے کی طرف میری توجہ رہتی تھی۔ہمارے ان احمدی نے انہیں بتایا کہ گزشتہ دنوں ایم۔ٹی۔اے پر ہمارا جلسہ بھی تھا۔انہوں نے کہا ہاں ، وہ جلسہ بھی میں نے سنا اور اب میں حقیقی اسلام میں شامل ہونا چاہتی ہوں۔یہ لکھتے ہیں کہ میری بیٹی جو اس وقت اس کے ساتھ باتیں کر رہی تھی اور وہاں موجود تھی۔وہ یونیورسٹی میں شاید پڑھتی ہے، کہنے لگی کہ جب جلسے پر احمدیت میں نئے آنے والوں، نئے شامل ہونے والوں کے واقعات بیان ہو رہے تھے کہ کس طرح ان کو احمدیت کی صداقت پر یقین آیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی کے واقعات بیان ہو رہے تھے تو میں سمجھی تھی ان میں کچھ قصے ہیں، کچھ مبالغہ ہے لیکن اس عورت کی یہ باتیں سن کر میرا ایمان بھی تازہ ہوا ہے کہ یہ مبالغہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ دنیا کے دلوں کو پھیر رہا ہے۔کس طرح اللہ تعالیٰ رہنمائی کرتا ہے؟ پس بعض پڑھے لکھے لوگوں یا نو جوانوں میں بھی بعض دفعہ خیال آ جاتا ہے کہ شاید کوئی واقعہ بڑھا چڑھا کر بیان ہو رہا ہو لیکن یا درکھنا چاہئے کہ جو بھی واقعات یہاں بیان ہوتے ہیں، یہ قصے کہانیاں نہیں بلکہ حقائق ہیں۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے چلائی ہوئی ہوا کے وہ چند نمونے ہیں جو میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ایسے بیشمار واقعات ہوتے ہیں جن میں سے چند ایک میں لیتا ہوں اور جلسے کے لئے جو واقعات چنے جاتے ہیں۔وہ بھی وہاں بیان نہیں ہو سکتے۔اس لئے گزشتہ سال میں نے کہا تھا کہ دوران سال بھی میں موقع ملا تو بیان کرتا رہوں گا۔لیکن کچھ بیان ہوئے ، کچھ نہیں ہو سکے۔پھر اس سال کے بہت سارے واقعات جمع ہو گئے۔بہر حال یہ واقعات بیان میں اس لئے کرتا ہوں کہ ہمارے ایمانوں میں مضبوطی پیدا ہو اور ہم بھی اپنے جائزے لیتے رہیں کہ کس حد تک ہمارے اندر بھی احمدیت کی جڑیں مضبوط ہوتی چلی جارہی ہیں کس طرح ہمیں بھی اپنی عبادتوں کی طرف توجہ دینی چاہئے۔کس طرح ہمیں بھی احمدیت قبول کرنے کے بعد خدا تعالیٰ سے رہنمائی حاصل کرنی چاہئے۔بہر حال اس حوالے سے آج میں نئے شامل ہونے والوں کے کچھ واقعات بیان کروں گا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ان کی رہنمائی فرماتا ہے۔انہیں صرف دلچسپ واقعات سمجھ کر ہمیں نہیں سنا چاہئے بلکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ایمان میں اضافے کا باعث بنتی ہے اور بنی چاہئے۔اپنی حالتوں کے جائزے لینے والی ہونی چاہئے۔اللہ تعالیٰ کے جماعت کے ساتھ سلوک پر شکر گزاری کے جذبات کا اظہار کرنے والی ہونی چاہئے۔اپنی ذمہ داری کا احساس اور اس کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانے والی ہونی چاہئے۔دنیا تک