خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 542 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 542

خطبات مسرور جلد 12 542 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 ستمبر 2014ء گزارنے کی توفیق دے۔میکسیکو کے ایک نو مبائع بشیر کو یا سو صاحب کہتے ہیں کہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد خلیفہ وقف کی محبت اور فدائیت کے جذبے سے معمور تھے جو بے مثال تھا۔جلسے کے کارکنان مہمانوں کی خدمت رضا کارانہ طور پر انتہائی جذبہ فدائیت سے کر رہے تھے۔جماعت احمد یہ دنیا میں ایک مثالی جماعت ہے جو حقیقی اسلام کی تصویر دنیا کے سامنے پیش کر رہی ہے۔میکسیکو کے نو مبائع امام ابراہیم چیچو صاحب جو اپنے سنٹر مقتدیوں کے ساتھ احمدیت میں شامل ہوئے۔کہتے ہیں میرے دل نے محسوس کیا کہ جلسے کے ایام میں بے شمار افضال و برکات نازل ہو رہے ہیں اور خلافت کے سائے میں دنیا کے مختلف رنگ ونسل کی قو میں باہمی محبت واخوت سے سرشار ہیں۔کہتے ہیں ،خلیفہ وقت کی تقاریر سے جہاں میرے علم میں اضافہ ہوا وہاں مجھے قلبی سکون بھی نصیب ہوا۔جلسے میں شامل ہر فرد بزبانِ حال گواہی دے رہا تھا کہ اسلام محبت اور سلامتی کا مذہب ہے جس کی ہر قوم و ملک کوضرورت ہے۔پانامہ سے گریگوریو گونزالیز (Gregoria Gonzales) یہ کہتے ہیں کہ جلسہ سالانہ یو کے میں مختلف افراد کے اجتماع تنظیم، محبت اور اخوت نے مجھے بہت متاثر کیا ہے۔میں نے محسوس کیا کہ ہر فرد دوسرے سے دلی محبت کرتا ہے۔یہ ایک مثالی اجتماع تھا جس نے ہماری روحانی زندگی میں انقلاب پیدا کر دیا اور ہماری ذمہ داری ہے کہ دوسروں کو بھی اس میں شامل کریں اور وہ بھی جماعت کا حصہ بن جائیں اور پانامہ کے افراد جماعت بھی اس سے بھر پور استفادہ کرنے والے بن جائیں۔فرنچ گیانا سے ایک دوست مسٹر ڈیوئیو آبدو ( Mr۔Diavia Abdou) آئے تھے انہوں نے 2008ء میں بیعت کی تھی۔جلسے میں پہلی دفعہ شامل ہوئے۔کہتے ہیں میں پیدائشی مسلمان تھا۔میں نے فرنچ گیانا میں سب سے پہلے احمدیت قبول کی تھی۔لیکن آج جلسہ سالانہ میں شامل ہو کر مجھے محسوس ہوا ہے کہ اصل حقیقی اسلام کیا ہے۔مجھے احمدیت کی حقیقت اور خلیفہ وقت کی اہمیت کا اب اندازہ ہوا ہے۔کہتے ہیں، خلیفہ وقت نے زندگی گزارنے کی راہیں بتا ئیں اور ہر ایک شخص ان راہوں پر چل کر خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کر سکتا ہے۔۔سے ایک دوست عبد وفال (Abdou Fall) صاحب آئے تھے۔یہ سینیگال کے ہیں۔کہتے ہیں جب میں نجیم میں احمدیوں کی مسجد میں گیا تو وہاں بہت زیادہ پیار ومحبت دیکھی۔پھر یہاں