خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 543
خطبات مسرور جلد 12 543 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 ستمبر 2014ء بھی میں نے احمدیوں میں پیار اور محبت ہی دیکھا۔اس پیار محبت اور بھائی چارے کے ماحول سے میں بہت متاثر ہوا۔عالمی بیعت میں شامل ہو کر میں نے بیعت بھی کی۔بیعت کے وقت جو میرے جذبات اور کیفیت تھی اس کا بیان ممکن نہیں۔کہتے ہیں میں نے جلسے کے موقع پر احمدیوں کو عبادت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔واقعی احمدی حقیقی مسلمان ہیں۔پھر کہتے ہیں کہ خلیفہ خدا کا مقرر کردہ ہے۔اس جلسے میں شامل ہو کر اور خلیفہ وقت سے ملاقات کر کے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور محسوس کیا کہ خلیفہ خدا مقرر کرتا ہے۔فلپائن کے ایک دوست پول اولا یا Yul Adelf Olaya) صاحب جو United Nations میں کام کرتے ہیں۔انہوں نے پچھلے سال بیعت کی ہے۔کہتے ہیں الحمد للہ جلسے میں شامل ہو کر مجھے جس چیز کی تلاش تھی وہ مل گئی۔انشاء اللہ اب میں اپنی آئندہ زندگی بطور احمدی ہی گزاروں گا۔جلسے کے دوران رضا کارانہ طور پر کام کرنے والوں نے جس جذبہ پیار اور محبت کے ساتھ کام کیا وہ قابل تحسین ہے۔کہتے ہیں میں نے ان کو صبح سے لے کر رات تک کام کرتے دیکھا۔پھر بچوں کو پانی پلاتے ہوئے دیکھا۔عجیب نظارہ تھا۔ان کے پیار اور محبت نے میرا دل موہ لیا۔یہ بھی بڑے جذباتی تھے۔پھر مالی سے ڈاکٹر کا کیا حما اللہ صاحب آئے تھے۔انہوں نے جلسے پر بیعت کی۔کہتے ہیں جلسے کے دوران میرے جو احساسات تھے وہ زندگی میں پہلی مرتبہ پیدا ہوئے تھے۔پہلی مرتبہ یہاں آیا ہوں اور اب یہ ارادہ لے کر جا رہا ہوں کہ ہمیشہ آئندہ جلسوں میں آؤں گا۔پھر کہتے ہیں کہ اگر دشمن پوری کوشش بھی کر لے تو وہ اس جلسے کا عشر عشیر بھی انتظام نہیں کر سکتے۔میرے خیال میں تو دنیا کی یونائیٹڈ نیشن جیسی بڑی طاقتیں بھی ایسا انتظام نہیں کر سکتیں۔جماعت احمد یہ واقعی ایک حقیقت اور سچ ہے۔اسی وجہ سے میں نے دلی گہرائیوں سے احمدیت کو قبول کیا ہے۔احمدی جہاں بعض جگہ پابندیوں میں گھرے ہوئے ہیں جیسا کہ میں نے قرغیزستان کا اور قزاقستان کا ذکر کیا۔ان کے بھی عجیب جذبات ہوتے ہیں۔قزاقستان سے ایک دوست عسکر عمر و وصاحب جلسے میں شامل ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پہلے بھی کئی دفعہ جلسہ سالانہ میں شمولیت اختیار کر چکا ہوں لیکن جامعہ میں رہائش کا پہلا تجربہ تھا۔میں سمجھتا ہوں کہ مختلف ممالک سے آئے ہوئے مہمانوں کا ایک ساتھ رہنا بہت ہی اچھا ہے کیونکہ اس سے ایک دوسرے کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کرنے کا موقع ملتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بڑی تعداد میں نمازی نماز ادا کرتے ہیں۔رہائش کی جگہ میں نماز ادا کرنے کا موقع ملتا ہے۔میرے لئے یہ بہت اہم بات تھی کیونکہ اس وقت قزاقستان میں ہم زیادہ تعداد میں جمع