خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 507
خطبات مسرور جلد 12 507 خطبه جمعه فرموده مورخہ 22 اگست 2014ء کہ مہمان کا احترام ، اس کی مہمان نوازی ، اس کا عزت و احترام ہر مومن کو عام حالات میں بھی کرنا چاہئے اور یہ اس پر فرض ہے۔بہر حال اس وقت میں کیونکہ جلسے کے مہمانوں کے حوالے سے توجہ دلانی چاہتا ہوں اس لئے ان باتوں کا محور جلسہ سالانہ ہی رہے گا۔جلسہ پر آنے والے مہمان جیسا کہ میں نے کہا یہاں آتے ہیں اور جلسے کے لئے آ رہے ہیں ، خالص دینی غرض سے آتے ہیں اور جلسے میں شامل ہونے والوں کی یہی غرض ہونی چاہئے۔اور جب یہ غرض ہو تو مہمان کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے اور خاص طور پر جب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسے میں شامل ہونے کی طرف خاص توجہ دلائی ہے اور اس جلسے کو خالص دینی اغراض کا حامل ٹھہرایا ہے۔اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا حامل ٹھہرایا ہے۔تو اس سے کس قدر اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔آنے والے کسی ذاتی مفاد کے لئے نہیں آتے۔کسی دنیاوی رونق میں حصہ لینے کے لئے نہیں آتے۔اگر کوئی اس غرض کے لئے آتا ہے تو اپنے ثواب کو ضائع کرتا ہے۔پس یہاں آنے والے مہمان جن کی خدمت کے لئے مختلف شعبہ جات میں کام کرنے کے لئے مخلصین اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں یہ عام مہمان نہیں ہیں بلکہ زمانے کے امام کے قائم کردہ نظام پر لبیک کہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی خاطر جمع ہونے والے مہمان ہیں۔پھر یو کے کے جلسہ سالانہ میں شامل ہونے کے لئے آنے والے مہمان تو خاص طور پر وہ مہمان ہیں جو خاص تردد سے فکر سے اور بعض دفعہ بے انتہا خرچ کر کے ، اپنی بساط سے زیادہ خرچ کر کے یہاں آتے ہیں اور بڑی دور دور سے آتے ہیں۔اس لئے کہ یہ سفر ہر لحاظ سے برکات کا موجب بن جائے۔خلافت سے محبت ان کو یہ احساس دلا رہی ہوتی ہے کہ یہ سفر خلیفہ وقت سے ملاقات کا بھی باعث بن جائے گا۔دنیا کے مختلف ممالک سے لوگ آتے ہیں۔نو مبائعین بھی ہیں ، پرانے احمدی بھی ہیں۔ان آنے والوں کی آنکھوں میں جب میں خلافت سے محبت دیکھتا ہوں تو اللہ تعالیٰ کے شکر سے جذبات بڑھتے جاتے ہیں کہ کس طرح وہ مومنین کے دل میں خلافت سے محبت پیدا کرتا ہے۔یہ کسی انسان کی کوشش سے نہیں ہو سکتا۔اور یہ صرف اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیج کر آپ کے بعد اس نظام کو جاری فرمایا اور اس لئے ہے تا کہ اسلام کے صحیح اور حقیقی تعلیم سے دنیا کو روشناس کرایا جائے۔اس لئے کہ اسلام کے پیار اور محبت کے پیغام کو دنیا کو بتایا جائے۔اس لئے کہ دنیا کو یہ بتایا جائے کہ حقیقی اسلام میں ہی اب دنیا کا امن ہے۔پس یہ باتیں ہیں جن کو دیکھنے کے لئے، سننے کے لئے،