خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 508
خطبات مسرور جلد 12 508 خطبه جمعه فرموده مورخہ 22 اگست 2014ء سیکھنے کے لئے لوگ یہاں آتے ہیں اور یہی وجہ ہے جو خلافت سے محبت ہے۔اب تو جرمنی میں بھی کئی ملکوں کی نمائندگی جلسے پر ہوتی ہے اور اچھی خاصی تعداد میں ہوتی ہے اس لئے کہ خلیفہ وقت سے ملاقات ہو جائے۔برطانیہ کے جلسے پر تو خاص طور پر بہت لوگ اس لئے آتے ہیں کہ جلسہ کے روحانی ماحول سے بھی فائدہ اٹھائیں گے۔علمی تربیتی اور دینی پروگراموں میں بھی شامل ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کے بھی وارث بنیں گے اور خلیفہ وقت سے ملاقات بھی ہو جائے گی۔غرض کہ یہاں آنے والوں کا جذبہ ایسا ہے جو کسی دوسرے دنیاوی رشتے میں نہیں ہے اور اسی بات کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی شرائط بیعت میں توجہ دلائی ہے۔پس یہاں آنے والے مہمان یا مہمانوں کا مقام ایک خاص مقام ہے اور ان کی اہمیت ہے۔اور اسی وجہ سے ان مہمانوں کی خدمت کرنے والوں کی بھی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔اور اس اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس کو سمجھتے ہوئے ہی افراد جماعت رضا کارانہ طور پر مہمانوں کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں۔ایک دنیاوی لحاظ سے اچھے افسر کو بڑے کمانے والے کو دیگوں پر کھانا پکانے ، روٹیاں پکانے ، اور دوسرے مختلف کاموں پر لگا دیا جاتا ہے حتی کہ ٹائٹلٹس کی صفائی پر بھی کھڑا کر دیں تو وہ خوشی سے یہ کام کرتا ہے۔اس لئے کہ ان مہمانوں کی خدمت سے وہ بے انتہا دعاؤں کا وارث بن رہا ہوتا ہے اور پھر یہی کارکن غیر از جماعت مہمانوں کے لئے تبلیغ کا بھی باعث بن رہے ہوتے ہیں۔ایک بچہ بھی جب جلسہ گاہ میں پھر کر پانی پلا رہا ہوتا ہے تو وہ بھی ایک خاموش تبلیغ کر رہا ہوتا ہے۔دنیا کو یہ بتارہا ہوتا ہے کہ ہم وہ لوگ ہیں جو دنیا میں فساد پیدا کرنے کے لئے نہیں آئے بلکہ دنیا کو مادی پانی بھی پلاتے ہیں، روحانی پانی بھی پلاتے ہیں۔پس مہمان کی اہمیت میزبان کی اہمیت کو بھی بڑھا رہی ہوتی ہے۔اور یہ چیز دنیا میں کہیں اور نظر نہیں آ سکتی۔پس خوش قسمت ہیں وہ کارکن اور رضا کار جوایسے مہمانوں کی خدمت کو انجام دینے کے لئے اپنے آپ کو پیش کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والے بن رہے ہوتے ہیں۔قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے مہمانوں اور مہمان نوازی کی بہت اہمیت بیان فرمائی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مقام اور خوبیوں کا جب ذکر فرمایا تو ان کے مہمان نوازی کے وصف کا خاص طور پر ذکر فر ما یا۔پس وہ میزبان جو بے نفس ہو کر مہمان نوازی کرتے ہیں اور مہمان کو دیکھتے ہی کسی اور کام کے بجائے مہمان کی خدمت کی فکر کرتے ہوئے ان کے لئے تیاری شروع کر دیتے ہیں۔ایسے لوگوں کا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مقام ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مہمانوں کی اس خدمت سے اللہ تعالیٰ