خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 501
خطبات مسرور جلد 12 501 خطبه جمعه فرموده مورخه 15 اگست 2014ء مسلمان تھا اس نے بھی بکواٹا کی ضلعی تنظیم کے ساتھ مل کے گاؤں کے نواحمدیوں کو تنگ کرنا شروع کیا۔معلم صاحب سمیت دو آدمیوں کو گرفتار کر لیا۔پھر کچھ وقفے کے بعد چھوڑ بھی دیا اور پھر دوبارہ چند دنوں کے بعد معلم کو بھی اور ہمارے تین چار احمدیوں کو بھی گرفتار کر لیا اور یہی اصرار تھا کہ مقدمہ کریں گے۔مختلف قسم کے الزامات احمدیوں پر لگاتے رہے کہ احمدی ہماری مسجد کو آگ لگانے آئے ہیں۔اس لئے اپنی الگ مسجد بنا رہے ہیں۔انتشار پیدا کر رہے ہیں۔ہمارا امن و سکون برباد کر دیا ہے۔جو باتیں یہ خود کرتے ہیں وہ سب الزامات احمدیوں پر لگاتے چلے گئے۔لیکن بہر حال اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور یہ سب لوگ اپنے ایمان پر قائم رہے اور انہوں نے کسی قسم کی پرواہ نہیں کی۔یہ بڑی مشکلات میں سے گزرے ہیں۔اب ایک اور تیسری مثال دیتا ہوں۔پہلے ایسٹ افریقہ تھا۔یہ ویسٹ افریقہ ہے۔بورکینا فاسو۔فرنچ علاقہ ہے۔یہاں بھی گان زورگو (Ganzourgou) ایک جگہ ہے۔وہاں پچھلے سال کی بات ہے کہ پانچ سو بیعتیں ہوئیں جس میں گاؤں کا چیف اور امام بھی بیعت میں شامل ہو گئے۔آخر ان کے جو دوسرے گاؤں کے علاقے کے قریبی رشتے دار تھے انہوں نے مخالفت شروع کر دی۔سوشل بائیکاٹ ہو گیا۔سلام کرنا، میل جول، لین دین یہ سب ختم کر دیا۔وہاں اس علاقے میں، قصبے میں یا گاؤں میں ایک چھوٹی سی جگہ تھی ، جہاں نماز پڑھا کرتے تھے وہاں نماز پڑھنے پر پابندی لگا دی اور مخالفت بڑھتی چلی گئی لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل سے، اب یہ جو دور دراز علاقے میں رہنے والےلوگ ہیں اور بظا ہر ان پڑھ کہلاتے ہیں، انہوں نے کسی مخالفت کی پرواہ نہیں کی اور اپنے ایمان کو سلامت رکھا اور قائم رہے۔اللہ تعالیٰ نے اب حالات بہتر کر دیئے ہیں۔تو ان مخالفتوں میں سے ہر ایک کو گزرنا پڑتا ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔میں نے پرانے لوگوں کی مثالیں نہیں دی ہیں۔بے شمارا ایسی مثالیں ہیں۔ی تازہ مثالیں اس لئے دی ہیں کہ اللہ تعالی کس طرح تیزی سے اپنے فضل سے دلوں میں ایمان بھرتا ہے اور دلوں میں ایمان بھر رہا ہے اور پھر اس کے بعد یہ ہر قربانی کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔دنیا کے مختلف ممالک میں ایسے لوگ ہیں جو احمدیت اور حقیقی اسلام کے پیغام کو سمجھ کر اپنی روحانی زندگی کا سامان کر رہے ہیں۔یہ کام سوائے اللہ تعالیٰ کی مدد کے ہو ہی نہیں سکتا۔اللہ تعالیٰ کی مدد ہمیشہ اپنے ماموروں کے شامل حال ہوتی ہے تو یہ کام ہوتے ہیں۔مامور کی نہ اپنی ہمت سے ہو سکتا ہے۔نہ ہی ہمارے مبلغین یا بعد کا نظام جو ہے وہ یہ کر سکتا ہے جب تک اللہ تعالیٰ کی تائیدات شامل حال نہ ہوں۔اور یہ تائیدات ہی ہیں جو قربانی