خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 500 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 500

خطبات مسرور جلد 12 500 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 اگست 2014ء لئے ایک دفعہ ایک پیغام چھوڑا کہ کچھ عرصہ قبل میں نے بیعت کی تھی اور اب بڑے مشکل حالات کا سامنا ہے۔کہتے ہیں کہ میں نے ان کو تسلی دلائی۔حالات پوچھے کیا وجہ ہوگئی۔تو انہوں نے کہا کہ میں اور میری بیوی تبلیغی جماعت سے منسلک تھے اور تبلیغی دوروں پر جایا کرتے تھے۔پھر جب ایم ٹی اے کے پروگرام دیکھے تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام پر میں ایمان لے آیا۔مجھے سچالگا، زندگی بخش لگا۔میری بیوی نے بڑی شدید مخالفت کی اور میرے گھر والوں کو میرے خلاف بھڑکایا۔تو کہتے ہیں مولویوں کو بھی میرے خلاف کیا۔مولویوں کے کہنے پر میری بیوی الازہر سے میری تکفیر کا فتویٰ بھی لے آئی اور ہماری علیحدگی ہوگئی۔نکاح ختم ہو گیا جو مولویوں کا طریق ہے۔اس کے بعد کہتے ہیں گھر والوں نے مجھے پر بہت پریشر ڈالا کہ جماعت کو چھوڑ دوں لیکن میں نے کسی کی پرواہ نہیں کی۔اس بیوی سے میرے چار بچے بھی ہیں لیکن سب کچھ چھوڑنے کے باوجود میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایمان پر قائم ہوں۔بیعت کے بعد مجھے اجنبیت کی حقیقت معلوم ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سمجھ آیا کہ ” اسلام اجنبی ہونے کی حالت میں شروع ہوا اور آخر کار پھر اجنبی ہو جائے گا۔پس اجنبیوں کو مبارک ہو۔“ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے خود مجھے پناہ دی اور میرا کفیل ہوا ہے۔اللہ کرے کہ میں کبھی نہ پھسلوں۔میں پھسلنے والا نہیں اور ثابت قدم رہوں گا انشاء اللہ۔اسی طرح مختلف علاقے ہیں۔اب یہ ایسٹ افریقہ ہے جہاں تنزانیہ سے ہمارے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ وہاں شیانگاریجن کے بعض علاقوں میں ایک تبلیغی پروگرام کا موقع ملا۔کئی جگہ سے نئی بیعتیں آئیں۔ان میں ایک گاؤں سونگا میلے ہے۔وہاں غیر احمدیوں کی مسجد بھی ہے۔اس مسجد میں نماز پڑھنے والوں میں سے تقریباً نوے فیصد مسلمانوں نے جماعت احمدیہ میں شمولیت اختیار کر لی اور اس کے بعد پھر تنزانیہ میں غیر احمدیوں کی مسلمانوں کی تنظیم بکواٹا (Bakwata) ہے جو کہ مسلمانوں کی ایک نمائندہ جماعت سمجھی جاتی ہے، اس نے شدید مخالفت شروع کر دی۔پہلے انہوں نے احمدیوں کو ڈرانے دھمکانے کی کوششیں کیں اور کیونکہ انہوں نے یہاں فوری طور پر معلم بھی بھیج دیا تھا تا کہ تربیت شروع ہو جائے اور اس نے تربیت شروع کر دی تھی۔اس لئے ان کے ایمان میں مضبوطی پیدا ہوتی رہی۔اسلام کی حقیقی تعلیم کا علم ان کو ہو گیا۔انہوں نے کسی کے ڈرانے دھمکانے کی کوئی پرواہ نہیں کی۔آخر انہوں نے اپنی مسجد میں نماز پڑھنے سے منع کر دیا۔انہوں نے نماز پڑھنے کے لئے ایک متبادل جگہ بنالی اور انہوں نے مسجد کی تعمیر کا فیصلہ کیا تو پھر انہوں نے نیا رخ اختیار کیا اور جو ضلعی انتظامیہ تھی اور جو پولیس تھی اس کا افسر جو کہ خودسنی