خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 502
خطبات مسرور جلد 12 502 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 اگست 2014ء کے لئے تیار کرتی ہیں اور استقامت عطا کرتی ہیں۔کئی پاکستانی بھی ہیں جو احمدیت قبول کرتے ہیں۔بعض دفعہ ان سے مختلف جگہوں پر مختلف ملکوں میں ملاقات بھی ہوئی تو جب بھی میں نے ان سے کہا کہ بعض مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، سختیاں جھیلنی پڑیں گئی ؟ پاکستان نہیں جاسکتے یا جاؤ گے، جیسا کہ بعض جاتے بھی ہیں تو مشکلات ہوں گی۔تو انہوں نے کہا ہم نے بڑی سوچ سمجھ کے قبول کیا ہے اور ہم انشاء اللہ تعالیٰ ثابت قدم رہیں گے۔یہ تو دنیا کا بھی طریق ہے اور اسی اصل پر دنیا چلتی ہے کہ کسی بھی مقصد کے حصول کے لئے محنت بھی کرنی پڑتی ہے، قربانی بھی دینی پڑتی ہے اور بڑے مقاصد کے حصول کے لئے بڑی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔پس دائمی روحانی زندگی کے لئے قربانیاں تو ساتھ ساتھ چلتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ بعض دفعہ ہر قربانی کے لئے تیار رہنے والوں کو بغیر قربانی کے ہی اس قدر نواز دیتا ہے کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے۔اگر انسان جو بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا اپنی استعداد کے مطابق معمولی نمونہ دکھانے کی کوشش کرتا ہے اور اپنا معمولی نمونہ دکھا کر دوسرے انسانوں کونو از سکتا ہے تو خدا تعالیٰ جو بڑا دیا لو ہے، جو نیتوں کے بھی بیشمار پھل لگاتا ہے اس کے نواز نے کی تو انتہا ہی نہیں ہے۔انسان کی قربانی اور اس پر انعام کی ایک دنیاوی مثال ہم پیش کرتے ہیں۔بہت سارے لوگوں نے سنی ہوگی۔کہاوت ہے کہ ایران کا ایک بادشاہ تھا۔وہ اپنے وزیر کے ساتھ ایک کسان کے پاس سے گزرا جو درخت لگا رہا تھا۔عمر کے لحاظ سے وہ ایسے حصے میں تھا جہاں ان درختوں کے پھلوں سے اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا تھا۔تو بادشاہ نے اس سے پوچھا کہ تمہیں اس درخت لگانے سے کیا فائدہ ہوگا۔اس نے جواب دیا کہ پہلوں نے جو درخت لگائے تھے ، جو قربانیاں کی تھیں ان کو ہم کھا رہے ہیں اور جو ہم لگا ئیں گے ان کو آئندہ نسلیں کھا ئیں گی۔بادشاہ کا یہ دستور تھا کہ جب کوئی اچھی بات لگتی تو خوش ہو کر وہ زہ کہتا تھا۔جس کا مطلب وزیر کے لئے یہ اشارہ ہوتا تھا کہ اس کو انعام دے دو۔کسان کی یہ بات سن کر بادشاہ خوش ہوا اور اس نے زہ کہا تو وزیر نے اس کو اشرفیوں کی ایک تھیلی دے دی۔یہ تھیلی لے کر کسان نے کہا کہ اس درخت نے تو لگاتے لگاتے ہی پھل دے دیا۔اس کا تو ابھی فائدہ شروع ہو گیا۔یہ بات پھر بادشاہ کو اچھی لگی۔اس نے یہ سن کر پھر زہ کہہ دیا۔وزیر نے پھر ایک تھیلی دے دی۔اس پر اس نے کہا کہ درخت تو کئی سالوں میں تیار ہوتا ہے اور پھر ایک دفعہ پھل دیتا ہے۔میرے درخت نے تو لگاتے لگاتے دو پھل دے دیئے۔اس پر بادشاہ نے پھر زہ کہا اور کہا کہ اب چلو یہاں سے نہیں تو بوڑھا ہمیں لوٹ لے