خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 497 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 497

خطبات مسرور جلد 12 497 خطبه جمعه فرموده مورخه 15 اگست 2014ء معجزات اور نشانوں کو دیکھتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے دیکھا۔وہ خدا تعالیٰ کے نشانوں اور تازہ بتازہ تائیدات سے نور اور یقین پاتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے پایا۔وہ خدا کی راہ میں لوگوں کے ٹھٹھے اور ہنسی اور لعن طعن اور طرح طرح کی دل آزاری اور بدزبانی اور قطع رحم وغیرہ کا صدمہ اٹھارہے ہیں جیسا کہ صحابہ نے اٹھایا۔وہ خدا کے کھلے کھلے نشانوں اور آسمانی مردوں اور حکمت کی تعلیم سے پاک زندگی حاصل کرتے جاتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے حاصل کی۔بہتیرے ان میں سے ایسے ہیں کہ نماز میں روتے اور سجدہ گاہوں کو آنسوؤں سے تر کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم روتے تھے۔ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 306-305) پس آپ کا یہ دعویٰ کہ میں دنیا کو زندگی دینے آیا ہوں بڑی شان سے پورا ہوا اور ہورہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعہ سے بھی دنیا کو زندگی بخش رہا ہے۔اب خدا تعالیٰ کے کلام کو سمجھنا آپ کے ذریعہ سے ہی ممکن ہے۔اس کے بغیر ناممکن ہے۔قرآن کریم کے معارف و حقائق بتانا آپ کا ہی کام ہے۔لوگوں کو روحانی زندگی اب آپ کے ذریعہ سے ہی مل رہی ہے اور مل سکتی ہے۔چودہ سو سال کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل پیروی اور محبت میں فنا ہو کر کامل عملی نمونہ آپ نے ہی پیش فرمایا۔پس یہ عملی اور اخلاقی زندگی بخشنے کا فیضان آج بھی جاری ہے۔لیکن اسلام پر اعتراض کرنے والے اس طرف نظر نہیں کرتے۔اگر مسلمانوں کے غلط عمل دیکھتے ہیں تو ضرورت سے زیادہ پراپیگنڈا کرتے ہیں۔اعتراضوں کی بھر مار شروع ہو جاتی ہے۔گزشتہ دنوں مجھے کسی نے لکھا کہ ایک پڑھے لکھے عیسائی سے اسلام کی خوبصورت تعلیم پر بات ہو رہی تھی اور خلافت کے جاری نظام اور جماعت دنیا میں کیا خدمات انجام دے رہی ہے اس بارے میں احمدی نے بتایا تو وہ کہنے لگا کہ میڈیا کو کیوں نہیں بتاتے۔یہ دنیا کو کیوں نہیں پتا لگتا۔اخباروں میں یہ کیوں نہیں آتا۔اس دوست نے کہا کہ ہم تو بتاتے ہیں۔ہماری تبلیغ بھی ہے ، لیف لٹس کی تقسیم بھی ہے۔اب تو تقسیم لاکھوں کروڑوں میں چلی گئی ہے۔بسوں میں اشتہار ہیں اور ذریعے ہیں اشتہار کے۔مختلف پروگرام ہیں۔خبریں بھی دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن میڈیا اس کو اتنی کوریج نہیں دیتا جتنی وہ منفی خبروں کو دیتا ہے۔تو عیسائی دوست خود ہی کہنے لگے کہ ہر چیز ہی کمرشلائز ہو چکی ہے میڈیا کو بھی جس طرف رجحان زیادہ ہو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے چٹ پٹی خبروں کی ضرورت ہے تا کہ لوگ ان کو سنیں اور دیکھیں اور مسلمانوں کے خلاف کیونکہ آجکل رجحان ہے اس لئے ان کے خلاف خبریں لگانے میں یہ تیزی دکھاتے