خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 496 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 496

خطبات مسرور جلد 12 496 خطبه جمعه فرموده مورخه 15 اگست 2014ء نے یہ زندگی پائی۔پس یہ اعتراض کہ کیا یہ رسول ہے جو زندگی دینے والا ہے؟ یہ ختم ہو جاتا ہے کیونکہ آپ نے اور اللہ نے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ یہ حالات ہوں گے۔یہ پیغام تو زندگی بخش ہے اور رہے گا۔یہ رسول تو زندگی بخش ہے اور ہمیشہ تا قیامت رہے گا لیکن اس پر عمل کرنے والے اس کی پیروی کرنے والے نہیں ہوں گے اور ایسے حالات میں پھر اللہ تعالیٰ آپ کی کامل اتباع اور پیروی میں مسیح موعود کو بھیجے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة : 4) اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ کمال ضلالت کے بعد ہدایت اور حکمت پانے والے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور برکات کو مشاہدہ کرنے والے صرف دو ۲ ہی گروہ ہیں۔اوّل صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے سخت تاریکی میں مبتلا تھے اور پھر بعد اس کے خدا تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے زمانہ نبوی پا یا اور معجزات اپنی آنکھوں سے دیکھے اور پیشگوئیوں کا مشاہدہ کیا اور یقین نے ان میں ایک ایسی تبدیلی پیدا کی کہ گویا صرف ایک روح رہ گئے۔دوسرا گروہ جو بموجب آیت موصوفہ بالاصحابہؓ کی مانند ہیں مسیح موعود کا گروہ ہے۔کیونکہ یہ گروہ بھی صحابہ کی مانند آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کو دیکھنے والا ہے اور تاریکی اور ضلالت کے بعد ہدایت پانے والا۔اور آیت آخَرِينَ مِنْهُمْ میں جو اس گروہ کو منہم کی دولت سے یعنی صحابہ سے مشابہ ہونے کی نعمت سے حصہ دیا گیا ہے۔یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے یعنی جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات دیکھے اور پیشگوئیاں مشاہدہ کیں ایسا ہی وہ بھی مشاہدہ کریں گے اور درمیانی زمانہ کو اس نعمت سے کامل طور پر حصہ نہیں ہو گا۔چنانچہ آج کل ایسا ہی ہوا کہ تیرہ سو برس بعد پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کا دروازہ کھل گیا اور لوگوں نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔۔۔پھر آپ فرماتے ہیں: طاعون کا پھیلنا اور حج سے روکے جانا بھی سب نے بچشم خود ملاحظہ کر لیا۔ملک میں ریل کا تیار ہونا اونٹوں کا بیکار ہونا یہ تمام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات تھے جو اس زمانہ میں اس طرح دیکھے گئے جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے معجزات کو دیکھا تھا۔اسی وجہ سے اللہ جل شانہ نے اس آخری گروہ کو منہم کے لفظ سے پکارا تا یہ اشارہ کرے کہ معائنہ معجزات میں وہ بھی صحابہؓ کے رنگ میں ہی ہیں۔سوچ کر دیکھو کہ تیرہ سو برس میں ایسا زمانہ منہاج نبوۃ کا اور کس نے پایا۔اس زمانہ میں جس میں ہماری جماعت پیدا کی گئی ہے کئی وجوہ سے اس جماعت کو صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشابہت ہے۔وہ