خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 486 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 486

خطبات مسرور جلد 12 486 خطبه جمعه فرموده مورخه 08 اگست 2014ء ابتلا سے نکالوں گا۔تمہاری دعاؤں کی وجہ سے تمہیں اس ابتلا سے نکالوں گا۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ عجیب و غریب خواص اور اثر تمہارے حق میں ظاہر ہوں گے۔پس جو شخص ایسا مضطر بن جائے جو خدا تعالیٰ کے علاوہ کسی کو اپنا ملجا و ماویٰ نہ سمجھے کوئی پناہ کی جگہ نہ سمجھے، جو خدا کے سوا کسی اور کو ان ابتلاؤں سے نجات دلانے والا نہ سمجھے تو وہی حقیقی مضطر ہے اور اس کی دعائیں عجائب دکھانے والی بنتی ہیں۔دعاؤں کی قبولیت کے لئے یہ یقین ہمیں اپنے اندر پیدا کرنا ہو گا کہ ہر قسم کے اضطرار کی حالت میں اللہ تعالیٰ ہی کام آتا ہے۔اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں جہاں ہمیں روشنی کی کرن نظر آتی ہو اور جب ایسی حالت پیدا ہو جائے ، جب اس طرح کی اضطرار کی کیفیت آ جاتی ہے تو پھر اس قسم کے مضطر کے پاس اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق دوڑتا ہوا آتا ہے اور اس کی مشکلات اور مصیبتیں دور کر دیتا ہے۔اس کی تکالیف ہوا میں اڑ جاتی ہیں۔چاہے وہ ذاتی تکالیف اور مشکلات ہوں یا جماعتی تکالیف اور مشکلات ہوں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف یہی نہیں ہوگا کہ يَكْشِفُ السُّوء۔ہو یعنی اللہ تکلیفوں کو دور کر دے اور بس۔یہ کافی ہو گیا۔اللہ تعالیٰ جب انعامات دیتا ہے تو اس کے انعامات لا محدود ہوتے ہیں۔کسی بھی حد تک وہ انعامات کو بڑھا سکتا ہے۔پس یہاں بھی جب تکلیف میں مبتلا مومنوں کی تکلیفوں کو دور کرنے کا اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو ساتھ یہ بھی فرما دیا کہ يَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الأرض۔کہ وہ تمہیں زمین کے وارث بنادیتا ہے۔وہ بڑے بڑے ظالموں ، جابروں اور سرکشوں کو تباہ کر کے مظلوم اور کمزور نظر آنے والوں کو ان کی جگہ بٹھا دیتا ہے۔پس جہاں انفرادی طور پر مضطر کی دعاسن کر اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف کو دور کرتا ہے وہاں قومی رنگ میں بھی اس کی تکلیفوں اور ابتلاؤں کو دور کرتا ہے۔اور یہی ہمیں قرآن کریم نے دوسری جگہ پر بھی بتایا ہے۔اس سے پتا چلتا ہے کہ جب پہلی قوموں نے رسولوں کے ساتھ اور ان کی قوموں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ ہم نے انہیں تباہ کر دیا اور مظلوموں کو ان کی جگہ دے دی۔پہلے لوگ بڑے بڑے جابر اور بڑے بڑے جاہ وجلال والے تھے لیکن ان کے نام تک مٹ گئے۔پس یہ قانون آج بھی اسی طرح قائم ہے جس طرح پہلی قوموں کے لئے قائم تھا۔پس اللہ تعالیٰ ظالموں کو ختم کرتا ہے لیکن جب مظلوم مضطر بن کر متى نضر اللہ کی درد بھری دعائیں کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا رحم جوش میں آکر ظالموں کے جلد خاتمے کے سامان پیدا کر دیتا ہے۔طاقت اور کثرت کے زعم میں آج ظلموں پر جو لوگ تلے بیٹھے ہیں اللہ تعالیٰ کرے کہ انہیں عقل آجائے ورنہ ان کی یہی طاقت اور کثرت ان کے لئے تباہی کا باعث بننے والی ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ جو اپنی