خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 487 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 487

خطبات مسرور جلد 12 487 خطبه جمعه فرموده مورخه 08 اگست 2014ء طاقت اور کثرت کی وجہ سے تقویٰ سے کام نہیں لیتے ان کے انجام بھی بد ہوا کرتے ہیں۔اگر کلمہ پڑھ کر اور اللہ اور رسول کا نام لے کر ظالموں کی داستانیں رقم ہوں گی تو کلمہ بھی اور اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول بھی ایسے لوگوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ظالموں کے بد انجام کی خبر دی ہے۔یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ فلاں قوم یا مذہب کے ماننے والوں کا استثناء ہے وہ جو چاہیں کرتے پھریں۔بلکہ جو بھی ایسے کاموں میں ملوث ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے حکموں کے خلاف ہیں، جو ظلموں پر منتج ہوتے ہیں وہ اپنے بد انجام کو پہنچے گا۔لیکن ہمارا کام ہے کہ ان ظلموں سے جلدی چھٹکارا پانے کے لئے ہم مضطر کی حالت اپنے اندر پیدا کریں۔اللہ تعالیٰ کی مددکو بے چین ہو کر پکار ہیں۔پھر دیکھیں اللہ تعالیٰ کس طرح مدد کو آتا ہے۔ہم میں سے ہر ایک کو یہ حالت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : وو یا درکھو کہ خدا تعالیٰ بڑا بے نیاز ہے۔جب تک کثرت سے اور بار بار اضطراب سے دعا نہیں کی جاتی وہ پروانہیں کرتا۔دیکھو کسی کی بیوی یا بچہ بیمار ہو یا کسی پر سخت مقدمہ آ جاوے تو ان باتوں کے واسطے اس کو کیسا اضطراب ہوتا ہے۔پس دعا میں بھی جب تک سچی تڑپ اور حالت اضطراب پیدا نہ ہو تب تک وہ بالکل بے اثر اور بیہودہ کام ہے۔قبولیت کے واسطے اضطراب شرط ہے۔“ ( ملفوظات جلد 10 صفحہ 137) پس جماعتی مشکلات کے دور کرنے کے لئے بھی ہمیں اسی اضطراب کی ضرورت ہے جس طرح بعض دفعہ ہم دعاؤں میں اپنے ذاتی مقاصد کے لئے دکھاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ کثرت سے اور بار بار دعا شرط ہے۔پس یہ خیال کر لینا کہ ہم نے رمضان میں دعائیں کر لیں اور کافی ہو گیا تو ہم پر واضح ہونا چاہئے کہ یہ کافی نہیں۔ابھی ہمیں مسلسل دعاؤں کی ضرورت ہے اور انسان کو ہمیشہ مسلسل دعاؤں کی ضرورت رہتی ہے۔جب اللہ تعالیٰ ہمیں کھلی فتح بھی عطا فرمادے گا تو پھر بھی تقویٰ پر چلتے ہوئے اس کے فضلوں کو سمیٹنے کے لئے مسلسل دعاؤں کی ضرورت ہوگی۔غرض کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق میں کبھی بھی کمی نہیں ہونی چاہئے ، نہ ایک مومن کبھی یہ برداشت کر سکتا ہے۔تکلیفوں میں بھی ہمیں اضطراب کی ضرورت ہے اور آسانیوں اور آسائشوں میں بھی ہمیں یاد خدا کی ضرورت ہے۔پس ایک مومن کبھی خود غرض نہیں ہوتا۔نہ ہی عارضی اور وقتی دعاؤں اور جوشوں کو کافی سمجھتا ہے بلکہ ہر حالت میں خدا تعالیٰ سے اس کا تعلق رہتا ہے اور رہنا چاہئے۔یہ ایمان اور تعلق ہی ایک مومن کو عام حالات میں بھی دعا کی قبولیت کے