خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 485
خطبات مسرور جلد 12 485 خطبه جمعه فرموده مورخه 08 اگست 2014ء ابتلاؤں میں ہی دعاؤں کے عجیب و غریب خواص اور اثر ظاہر ہوتے ہیں۔اور سچ تو یہ ہے کہ ہمارا خدا تو دعاؤں ہی سے پہچانا جاتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ (201) پس جیسا کہ میں نے کہا کہ آج احمدیوں سے زیادہ اور کون ان ابتلاؤں میں ڈالا جا رہا ہے۔آج احمدیوں سے زیادہ اور کون ہے جس پر ہر طرف سے ظلم بعض مسلمان ممالک میں روا رکھا جارہا ہے۔ان ملکوں کے اکثر شرفاء بلکہ تمام ہی کہنا چاہئے ، ان کی شرافت جیسا کہ حضرت خلیفتہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرمایا کرتے تھے کہ گونگی شرافت ہو چکی ہے۔(ماخوذ از خطبات ناصر جلد هشتم صفحه 376 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 ستمبر 1979ء) ایسے میں معجزانہ دعاؤں کے فیض حاصل کرنے کے لئے ہمیں خاص توجہ کی ضرورت ہے۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ دیکھو مصیبت زدہ لوگوں کی دعاؤں کو کون قبول کرتا ہے۔صرف اللہ تعالیٰ ہی قبول کرتا ہے۔اور جب وہ ایسی حالت میں ہوں جب مضطر ہوں۔مضطر اس کو کہتے ہیں جو اپنے چاروں طرف مشکلات اور ابتلاؤں کو دیکھتا ہے۔اسے اپنی کامیابی کا کوئی مادی یا دنیاوی راستہ نظر نہیں آتا اور صرف اور صرف ایک راستہ نظر آتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی طرف جانے کا راستہ ہے۔خدا تعالیٰ کہتا ہے یہ مضطر ہیں جو میری طرف آتے ہیں جن کے لئے دنیا کے تمام راستے بند اور مسدود ہو چکے ہوتے ہیں۔مضطر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جب کوئی راستہ نظر نہ آئے تو گھبراہٹ میں اضطراب شروع ہو جائے کہ ہم کدھر جائیں۔بلکہ مضطر کا مطلب جیسا کہ میں نے کہا یہ ہے کہ جب تمام راستے بند ہو جائیں، تمام راستے مسدود ہو جائیں تو ایک طرف روشنی کی کرن نظر آئے اور وہ اس کی طرف دوڑے۔اگر ہر طرف آگ نظر آ رہی ہو تو دیوانوں کی طرح بے چین ہو کر دوڑنے والے کو مضطر نہیں کہتے۔کیونکہ اگر اس طرح وہ گھبراہٹ میں دوڑے گا تو خود آگ میں پڑ جائے گا بلکہ ہر طرف کی آگ دیکھنے کے بعد جب اسے امن کا ایک راستہ نظر آ رہا ہو، اسے ایک طرف پناہ نظر آ رہی ہو اور وہ اس معین راستے کی طرف چلا جائے تو وہ شخص ایسا ہے جو مضطر کہلاتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ایسے شخص کو پھر آگ سے بچانے والا ہوں۔میں اس کی پناہ گاہ ہوں۔آگ کی تپش سے بچانے والی ٹھنڈی چھاؤں میں ہوں۔میری طرف آؤ۔مجھ سے پناہ طلب کرو۔میں تمہیں ان ابتلاؤں سے نکالوں گا۔اس یقین سے میری طرف آؤ کہ ہمارا خدا ہے جو ہمیں اس ابتلا سے نکالنے والا ہے تو میں تمہیں تمہارے اس یقین کی وجہ سے اس