خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 42
خطبات مسرور جلد 12 42 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 جنوری 2014ء پہلے دوتین ہوائی فائر کئے جس پر لڑ کے شور مچاتے ہوئے گلی کی دوسری طرف بھاگے جس پر وہ شخص پیچھے آیا اور ان پر تین چار فائر کئے۔ارسلان سرور بھاگتے ہوئے دونوں لڑکوں کے درمیان میں تھا۔گلی میں موجود فائرنگ کے نشانات سے پتا چلتا ہے کہ دونوں غیر احمدی لڑکوں پر بھی فائرنگ ہوئی ہے جو دائیں اور بائیں تھے۔جبکہ ارسلان سرور نے بھاگتے ہوئے پیچھے مڑکر دیکھا تو عین اُسی وقت اس کے سر پر گولی لگی جس کی وجہ سے وہ وہیں گر گیا اور دونوں لڑکے بھی گلی میں موجود گاڑیوں کے پیچھے لیٹ گئے۔حملہ آور کچھ دیر تک آگے آئے پھر واپس مڑ گئے اور بھاگ گئے۔عزیزم کو ہسپتال لے جایا گیا۔”ہولی فیملی ہسپتال وہاں قریب ہی ہے۔ڈاکٹروں نے کوشش تو کی لیکن ڈاکٹروں نے کہہ دیا تھا کہ بچنا مشکل ہے کیونکہ دماغ میں گولی لگی ہے۔خون وغیرہ بھی دیا گیا۔تقریباً تین گھنٹے کے بعد عزیزم کی شہادت ہوگئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُون۔کافی ہر دلعزیز تھا۔وہاں کے غیر از جماعت بھی تعزیت کے لئے ان کے گھر آئے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھا اور چودہ سال کی عمر میں وصیت کی تھی۔خدام الاحمدیہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں سائق کے طور پر کام کر رہا تھا۔پہلے بھی اطفال الاحمدیہ میں خدمات بجالاتا رہا۔اس کے بھائی بھی مختلف جماعتی خدمات پر مامور ہیں۔قائد صاحب ضلع راولپنڈی کہتے ہیں کہ ارسلان سرور مرحوم اور اُن کے تمام بھائی خدام الاحمدیہ کے بڑے فعال رکن ہیں اور وہ حفاظتی ڈیوٹیاں اور دیگر تنظیمی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے ہیں۔مربی صاحب راولپنڈی نے بتایا کہ اکثر ان کے دفتر میں آکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ کرنا شہید مرحوم کا معمول تھا۔نمازوں میں با قاعدہ تھا اور نمازوں میں سوز وگداز تھا۔جمعہ با قاعدگی سے ایوانِ توحید میں پڑھتے تھے۔اگر چہ پولیس کا پہرہ بھی ہوتا تھا، بعض پابندیاں بھی تھیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے چندوں میں بڑے با قاعدہ تھے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔رحم اور مغفرت کا سلوک فرمائے اور ان کے پسماندگان جو ہیں ان کو صبر اور ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے۔مرحوم کے پسماندگان میں والد مکرم محمد سرور صاحب سیکرٹری دعوت الی اللہ حلقہ، والدہ عشرت پروین صاحبہ اور اس کے علاوہ تین بھائی یا سراحمد ( یہ جرمنی میں ہیں ) ، ناصر احمد ( امریکہ میں ہیں ) اور محمد احمد راولپنڈی میں ہیں سوگوار چھوڑے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو صبر عطا فرمائے۔الفضل انٹرنیشنل مورخہ 07 فروری 2014 ء تا 13 فروری 2014 ءجلد 21 شماره 06 صفحه 05 تا08)