خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 43
خطبات مسرور جلد 12 43 4 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جنوری 2014ء خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرزا مسروراحمد خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 24 جنوری 2014 ء بمطابق 24 صلح 1393 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آج بھی گزشتہ خطبہ کا مضمون ہی جاری رہے گا۔پہلے جو باتیں ہوئیں اُن کی مزید وضاحت یا اُن کے بہترین نتائج کے حصول کے لئے کوشش کے مزید راستے کیا ہیں، طریق کیا ہیں، جن سے ہم جماعت کے ایک بڑے حصہ میں بہتری پیدا کر سکتے ہیں۔اس بارے میں آج کچھ بیان ہوگا۔گزشتہ دو خطبات میں اس بات کا تفصیل سے ذکر ہوا اور یہ ذکر ہونے کی وجہ سے ہم پر یہ بات واضح ہوگئی کہ عملی اصلاح کے لئے تین باتیں انسان میں پیدا ہو جا ئیں تو عملی اصلاح جلد اور بہتر طور پر ہوسکتی ہے۔یعنی قوت ارادی کا پیدا ہونا جو دین کے حوالے سے اگر دیکھی جائے تو ایمان میں مضبوطی پیدا کرنا ہے۔دوسرے علمی کمی کو دور کرنا۔اور تیسرے قوت عملی کی کمزوری کو دور کرنا۔جیسا کہ میں نے کہا آج میں بعض اور پہلو بیان کروں گا جن کو حضرت مصلح موعود نے تفصیل سے بیان کیا ہے، اس میں سے کچھ کچھ پوائنٹ میں لیتا ہوں۔لیکن اس بارے میں آج جو باتیں ہوں گی اس کے لئے میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے مربیان، ہمارے علماء اور ہمارے وہ عہد یداران اور امراء جن کو نصائح کا موقع ملتا ہے یا جن کے فرائض میں یہ داخل ہے اور ان عہدیداروں میں ذیلی تنظیموں کے عہدیدار بھی شامل ہیں، خاص طور پر ان باتوں کو سامنے رکھیں تا کہ جماعت کے افراد کی عملی اصلاح میں اپنا کردار بھر پور طور پر ادا کر سکیں۔اس بارے میں بہت سی باتیں میں جماعت کے سامنے وقتاً فوقتاً پیش کرتا رہتا ہوں اور ایم ٹی اے کی نعمت کی وجہ سے