خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 41 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 41

خطبات مسرور جلد 12 41 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 جنوری 2014ء اسی طرح بعض انسانوں کے لئے کچھ عرصے کے لئے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے اور آہستہ آہستہ یہ سہارا اُس میں اتنی طاقت پیدا کر دیتا ہے کہ وہ خود فعال ہو جاتا ہے اور عملی کمزوریاں دُور ہو جاتی ہیں۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحه 447 تا 450 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 10 جولائی 1936 مطبوع فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ) پس جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں بھی کہا تھا کہ ہمارا نظام جماعت، ہمارے عہد یدار، ہماری ذیلی تنظیمیں ان عملی کمزوریوں کو دُور کرنے کا ذریعہ بنیں۔لیکن اگر خود ہی یہ لوگ جن کی قوتِ ارادی میں کمی ہے، ان عہد یداروں کے بھی اور باقی لوگوں کے بھی علم میں کمی ہے، عملی کمزوری ہے تو وہ کسی کا سہارا کس طرح بن سکیں گے۔پس جماعتی ترقی کے لئے نظام کے ہر حصے کو ، بلکہ ہر احمدی کو اپنا جائزہ لیتے ہوئے اپنی اصلاح کی بھی ضرورت ہے اور اپنے دوستوں اور قریبیوں کا سہارا بننے کی ضرورت ہے جو کمزوریوں میں مبتلا ہیں تا کہ جماعت کا ہر فرد عملی اصلاح کے اعلیٰ معیاروں کو چھونے والا بن جائے اور اس لحاظ سے وہ اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والا ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔نمازوں کے بعد میں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا۔ایک افسوسناک خبر ہے کہ عزیزم ارسلان سرور ابن مکرم محمد سرور صاحب راولپنڈی کی 14 جنوری کو شہادت ہوگئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پہلے ان کے خاندان کا تھوڑا سا تعارف کرا دوں۔ارسلان سرور صاحب کے دادا محمد یوسف صاحب کا تعلق چک نمبر 55 گ ب تحصیل جڑانوالہ، فیصل آباد سے تھا۔شہید مرحوم کے والد اور دادا نے خلافت ثالثہ میں 1973ء میں بیعت کی تھی جبکہ والدہ پیدائشی احمدی تھیں۔1984ء میں یہ فیملی راولپنڈی شفٹ ہو گئی۔مرحوم کے والد وہاں فلور مل میں سپر وائزر تھے۔ارسلان شہید کی پیدائش پنڈی کی ہے۔اسلام آباد میں ایف ایس سی پری انجینئر نگ کے طالب علم تھے۔وفات کے وقت ان کی عمر سترہ سال کی تھی۔عزیزم ارسلان کا شہادت کا واقعہ یہ ہے کہ 13 ، 14 جنوری کی درمیانی شب، رات ایک بجے اپنے محلے کے غیر احمدی دوستوں کے ہمراہ گلی میں 12 ربیع الاول کے حوالے سے لائٹنگ اور دیگر تیاریاں وغیرہ کر رہے تھے کہ ایک گاڑی گلی کے آخر پر آ کے رُکی اور اُس کے کچھ دیر بعد ایک موٹر سائیکل سوار بھی قریب آ کے رُکا۔ان کے کھڑے ہونے سے قبل ان میں سے دو افراد قریب واقع گندگی کے ڈھیر سے ایک سفید رنگ کے شاپر میں کچھ لے کر بھی آئے جو کہ پہلے ہی وہاں پر رکھا ہوا تھا۔اسی دوران گلی میں موجود دوغیر احمدی لڑکوں اور ارسلان سرور صاحب نے ان کو دیکھا اور مشکوک خیال کیا اور آپس میں مشورہ کیا کہ بڑوں کو بھی جگاتے ہیں جس کی وجہ سے ارسلان سرور نے شور مچایا جس پر گاڑی میں سے ایک آدمی نکلا اور اُس نے