خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 453
خطبات مسرور جلد 12 453 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جولائی 2014ء خاص نظارہ دکھایا جاتا ہے اور دعائیں بالعموم سنی جاتی ہیں۔لیکن روایات سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ دو مسلمانوں کی ایک غلطی کی وجہ سے یہ معین تاریخ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھول گئی۔اس ساعت کا علم ہونا، اس گھڑی کا علم ہونا کوئی معمولی چیز نہیں اور اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں قدرتی طور پر ایک خواہش پیدا ہوئی کہ اس کا جو علم خدا تعالیٰ نے مجھے دیا ہے تو میں مومنین کی جماعت کو بھی بتاؤں۔حدیث میں آتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ علم دیا گیا تو آپ خوشی خوشی گھر سے باہر آئے تاکہ لوگوں کو بھی اس کی اطلاع دیں اور وہ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں مگر جب باہر تشریف لائے تو دیکھا دو مسلمان لڑ رہے ہیں۔آپ ان کی لڑائی اور اختلاف مٹانے میں مصروف ہوئے تو اس کی تاریخ کی طرف سے آپ کی توجہ ہٹ گئی۔لگتا ہے کافی وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں اشخاص کی صلح کرانے میں لگا یا معاملے کو سلجھانے میں لگا۔بہر حال جب آپ دوبارہ اس طرف متوجہ ہوئے کہ میں تولیلۃ القدر کی تاریخ بتانے آیا تھا تو آپ اس وقت تک وہ معین تاریخ بھول چکے تھے بلکہ حدیث میں بھلا دیا گیا' کے الفاظ بھی ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھا ہے کہ حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ بھولے ہی نہیں تھے بلکہ الہی تصرف سے اس گھڑی کی یاد اٹھالی گئی تھی۔پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس جھگڑے کی وجہ سے یا اختلاف کی وجہ سے اس گھڑی کا علم اٹھا لیا گیا ہے اس لئے اب معین تو نہیں لیکن اسے رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔اس سے ایک بڑا اہم نکتہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا ہے کہ وہ گھڑی جس کی مناسبت کی وجہ سے اسے لیلتہ القدر کہا گیا ہے وہ قومی اتحاد واتفاق سے تعلق رکھتی ہے۔پس یہ بڑا اہم نکتہ ہے۔ہم حدیث سنتے ہیں تو کہ دیتے ہیں کہ اگر وہ دونوں مسلمان نہ لڑتے تو یہ معین تاریخیں ہمیں پتا چل جاتیں۔لیکن اس اہم بات کی طرف بہت کم توجہ ہوتی ہے کہ وہ گھڑی جس کی مناسبت سے اسے لیلتہ القدر کہا جاتا ہے وہ قومی اتفاق و اتحاد سے تعلق رکھتی ہے اور جس قوم میں سے اتحاد و اتفاق مٹ جائے اس سے لیلتہ القدر بھی اٹھالی جاتی ہے۔آج بڑے افسوس سے ہمیں یہ بھی کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے مسلمان ممالک کی بدقسمتی ہے کہ ان میں انفاق واتحاد نہیں رہا۔رعا یا رعایا سے لڑرہی ہے۔رعا یا حکومت سے بھی لڑ رہی ہے اور حکومت رعایا پر ظلم کر رہی ہے۔گویا نہ صرف اتفاق و اتحاد نہیں رہا بلکہ ظلم بھی ہورہا ہے۔اور پھر ظلم پر زور بھی دیا جارہا ہے۔