خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 454
خطبات مسرور جلد 12 454 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جولائی 2014ء پس اس اتفاق واتحاد کی کمی کا نتیجہ ہے کہ غیروں کو بھی جرات ہے کہ مسلمانوں کے خلاف جو چاہیں کریں۔اور یہی وجہ ہے کہ اسرائیل بھی ظالمانہ طور پر اس وقت معصوم فلسطینیوں کو قتل کرتا چلا جا رہا ہے۔اگر مسلمانوں میں اتفاق و اتحاد ہوتا اور وہ خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے والے ہوتے تو مسلمان ممالک کی اتنی بڑی طاقت ہے کہ پھر اس طرح ظلم نہ ہوتے۔جنگ کے بھی کوئی اصول وضوابط ہوتے ہیں۔اسرائیل کے مقابل پر فلسطینیوں کی کوئی طاقت نہیں۔اگر یہ کہا جاتا ہے کہ حماس والے بھی ظلم کر رہے ہیں تو مسلمان ملکوں کو ان کو بھی روکنا چاہئے۔لیکن ان دونوں کے ظلموں کی نسبت ایسی ہی ہے جیسے ایک شخص اپنے ڈنڈے سے ظلم کر رہا ہے اور دوسری طرف ایک فوج تو پہیں چلا کر ظلم کر رہی ہے۔مسلمان ممالک سمجھتے ہیں گزشتہ دنوں ترکی میں سوگ منایا گیا کہ سوگ منا کر انہوں نے اپنا حق ادا کر دیا۔اسی طرح مغربی طاقتیں بھی اپنا کردارا دا نہیں کر رہیں۔چاہئے تو یہ تھا کہ دونوں طرفوں کو سختی سے روکا جا تا۔بہر حال ہم تو دعا ہی کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مظلوموں اور معصوموں کو ان ظلموں سے بچائے اور امن قائم ہو۔اسی طرح مسلمان ممالک کے اپنے اندر بھی جو ایک دوسرے کے اوپر ظلم کئے جا رہے ہیں اور فساد بڑھ رہے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں بھی عقل دے۔اور کلمہ گو دوسرے کلمہ گو کے خون سے جو ہاتھ رنگ رہے ہیں اس سے یہ لوگ بچیں۔آپس میں بھی اتفاق و اتحاد قائم ہو۔اس کے بغیر نہ ان کی عبادتوں کے حق ادا ہو سکتے ہیں نہ یہ حسرت پوری ہو سکتی ہے کہ ہمیں لیلۃ القدر ملے۔کیونکہ جب قوم میں اتفاق و اتحاد مٹ جائے، ختم ہو جائے تو لیلتہ القدر بھی اٹھالی جاتی ہے۔پھر صرف راتیں اور ظلمتیں ہی ، اندھیرے ہی اور مقدر بنتے ہیں۔ترقی رک جاتی ہے۔لیلۃ القدر کے معنی ہیں کہ وہ رات جس میں انسان کی قسمت کا اندازہ کیا جاتا ہے اور یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ آئندہ سال میں اس سے کیا معاملہ ہوگا۔وہ کہاں تک بڑھے گا اور ترقی کرے گا۔کیا کیا فوائد حاصل ہوں گے اور کیا نقصان اٹھانے پڑیں گے۔انسانی ترقی کے تمام فیصلے تیل یعنی ظلمت میں ہی ہوتے ہیں۔اس ترقی کی مثال جسمانی ترقی سے جوڑتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے ایک جگہ اس طرح بیان فرمائی کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی جسمانی ترقی بھی متواتر ظلمتوں میں ہوتی ہے۔ماں کا پیٹ بھی کئی ظلمتوں کا مجموعہ ہے اور وہیں انسان کی جسمانی ترقی کا فیصلہ ہوتا ہے۔اگر ان دنوں میں پرورش اچھی طرح نہ ہو تو بچہ کمزور ہو جاتا ہے۔یہ تو ثابت شدہ ہے کہ ماں کے ظاہری ماحول کا بچے پر اثر ہوتا ہے۔اسی طرح ماں کی خوراک وغیرہ کا بچے پر اثر ہوتا ہے۔بچے کی اخلاقی حالت بھی اچھی نہیں ہوگی