خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 452
خطبات مسرور جلد 12 452 30 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جولائی 2014ء خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفہ امسح الخامس ایدہ الہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 25 جولائی 2014 ء بمطابق 25 وفا 1393 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: رمضان کا آخری عشرہ بھی بڑی تیزی سے گزر رہا ہے۔اس عشرے میں دو چیزوں کی طرف مسلمان زیادہ توجہ رکھتے ہیں یا انہیں بہت اہمیت دیتے ہیں ان میں سے ایک تو لیلتہ القدر ہے اور دوسری چیز جمعتہ الوداع۔ان میں سے ایک یعنی لیلتہ القدر تو ایک حقیقی اہمیت رکھنے والی چیز ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ثابت ہے۔احادیث میں اس کا مختلف روایتوں میں ذکر ہے۔اسی طرح قرآن شریف میں بھی اس کا ذکر موجود ہے لیکن جمعۃ الوداع کو تو خود ہی مسلمانوں نے یا علماء کی اپنی خود ساختہ تشریح نے غلط رنگ دے دیا ہے۔آج میں ان ہی دو باتوں کی طرف توجہ دلاؤں گا یا ان کی اہمیت اور حقیقت کے بارے میں مختصر ذکر کروں گا۔آج بھی میں نے کچھ استفادہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خطبات سے کیا ہے۔لیلۃ القدر کے بارے میں مختلف راویوں نے مختلف تاریخیں بتائی ہیں۔کسی نے اکیس رمضان بتائی۔کسی نے تئیس سے انتیس تک تاریخیں بتائیں بعض اسی بات پر پکتے ہیں کہ ستائیس یا انتیس لیلتہ القدر ہے۔لیکن بہر حال عموماً اس بارے میں یہی روایت ہے کہ لیلتہ القدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو۔آخری دس دنوں میں، دس راتوں میں تلاش کرو۔بہر حال لیلۃ القدر ایک ایسی رات ہے جس کی ایک حقیقت ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس خاص رات کی معین تاریخ کا بھی علم دیا گیا جس میں ایک حقیقی مومن کو قبولیت دعا کا