خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 416 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 416

خطبات مسرور جلد 12 416 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جولائی 2014ء دوسری ترجیحات اس کو زیادہ پرکشش لگتی ہیں اور وہ ان کے حصول کے لئے بعض ایسی حرکتیں کر دیتا ہے جن کا تقویٰ تو کیا ، عام اخلاق سے بھی دُور کا واسطہ نہیں ہوتا۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا ان عارضی دنیاوی فوائد کے لئے تم دین کو بھول رہے ہو اور میرے احکامات پر عمل نہیں کر رہے ہو۔تم سمجھتے ہو کہ جھوٹ بول کر کسی دنیا دار کی خوشامد کر کے دوسرے کے مال میں خیانت کر کے تم دنیاوی فوائد حاصل کر لو گے۔کسی کا حق ظلم سے مار کر تم اپنی دولت میں اضافہ کر لو گے تو سنو کہ ہر قسم کا رزق اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔وہ سب دولتوں کا سر چشمہ ہے۔اگر خدا نہ چاہے تو تم یہ دولت بھی حاصل نہیں کر سکتے۔اگر تم عارضی طور پر یہ حاصل کر بھی لوتو یہ دولت تمہارے لئے خیر نہیں ، شتر بن جائے گی۔انجام کار تم خدا تعالیٰ کی پکڑ میں آؤ گے۔پس اگر تم اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچنا چاہتے ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے حلال رزق کی تلاش کرو اور حلال رزق متقیوں کو ہی ملتا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اور ایسے راستوں سے آتا ہے جس کا ایک عام انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (الطلاق : 4-3 ) جو شخص اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا اللہ اس کے لئے کوئی نہ کوئی راستہ نکال دے گا اور اس کو وہاں سے سے رزق دے گا جہاں سے رزق آنے کا اس کو خیال بھی نہیں ہوگا اور جو کوئی اللہ پر توکل کرتا ہے وہ اللہ اس کے لئے کافی ہے۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ہمیشہ دیکھنا چاہئے کہ ہم نے تقویٰ و طہارت میں کہاں تک ترقی کی ہے۔اس کا معیار قرآن ہے۔اللہ تعالیٰ نے متقی کے نشانوں میں ایک یہ بھی نشان رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کومکروہات دنیا سے آزاد کر کے اس کے کاموں کا خود متکفل ہو جاتا ہے۔جیسے کے فرمایا: وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسب فرمایا کہ ” جو شخص خدا تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ ہر ایک مصیبت میں اس کے لئے راستہ مخلصی کا نکال دیتا ہے اور اس کے لئے ایسے روزی کے سامان پیدا کر دیتا ہے کہ اس کے علم و گمان میں نہ ہوں۔یعنی یہ بھی ایک علامت متقی کی ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو نا بکار ضرورتوں کا محتاج نہیں کرتا۔مثلاً ایک دوکاندار یہ خیال کرتا ہے کہ دروغ گوئی کے سوا اس کا کام ہی نہیں چل سکتا اس لئے وہ دروغ گوئی سے باز نہیں آتا اور جھوٹ بولنے کے لئے وہ مجبوری ظاہر کرتا ہے لیکن یہ امر ہرگز سچ نہیں۔خدا تعالیٰ متقی کا خود محافظ ہوجاتا اور اسے ایسے موقع سے بچالیتا ہے جو خلاف حق پر مجبور کر نے والے ہوں“۔موقع ہی نہیں آنے دیتا اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے لئے جو متقی ہوں جو جھوٹ بولنے پر مجبور کرنے والے ہوں۔فرمایا کہ