خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 415
خطبات مسرور جلد 12 415 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جولائی 2014ء بننے کے لئے تقویٰ شرط ہے اور یہ رمضان کا مہینہ اس تقویٰ میں ترقی کا ایک ذریعہ ہے۔پس اس سے فائدہ اٹھا لو جتنا اٹھا سکتے ہو۔اس لئے ہر فرد جماعت کو اور ہر مومن بننے والے کی خواہش رکھنے والے کو اپنے انفرادی جائزے لیتے ہوئے تقویٰ کے معیاروں کو اونچا کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے یہ رہنمائی فرمائی کہ فرمایا: وَهُذَا كِتب انْزَلْنَهُ مُبَارَكَ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (الانعام: 156 ) اور یہ قرآن ایسی کتاب ہے جسے ہم نے اتارا ہے اور یہ برکت والی ہے۔پس اس کی پیروی کرو اور تقویٰ اختیار کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔پس اگر رمضان سے فیض پانا ہے، اگر اپنے بہتر انجام کو دیکھنا ہے، اگر فلاح کے دروازے اپنے او پر کھلوانے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ کا رحم حاصل کرنا ہے، اگر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بننا ہے اور ان لوگوں کی طرح نہیں ہونا جن کا کوئی رہنما نہیں ہے، جو بکھرے ہوئے ہیں اور ہر اس شخص کے دھوکے میں آ جاتے ہیں جو اسلام کے نام پر اور دین کے نام پر ان کے جذبات بھڑکا دیتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن پر عمل کرو۔اس کے احکامات کو دیکھو۔ان کا حقیقی ادراک حاصل کرو۔اس زمانے میں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے ان کی نظر سے قرآن کریم کے احکامات کو غور سے دیکھو کہ وہی اللہ تعالیٰ نے سکھائے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی عشق اور پیروی میں سکھائے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جو قرآن کریم کے سات سو حکموں میں سے کسی ایک حکم کو بھی چھوڑتا ہے جان بوجھ کر اس کی طرف توجہ نہیں دیتا تو پھر ایسا شخص کو آپ کی جماعت اور آپ کی بیعت میں آنے کا عبث دعوی کرتا ہے۔(ماخوذ از کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 26) یہ الفاظ میرے ہیں لیکن مضمون کا مفہوم یہی ہے۔آپ اسے اپنی جماعت میں شامل نہیں سمجھتے تھے۔پس جیسا کہ میں پہلے ایک اقتباس میں پڑھ آیا ہوں کہ یہ بڑے خوف کا مقام ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین ہے۔بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے رحم کے دروازے ان پر ہمیشہ کھلے رہیں گے اور کھلتے چلے جائیں گے جو تقویٰ پر چلتے ہوئے میرے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔پس اس کی برکات سے فائدہ اٹھا لو۔کسی حکم کو بھی معمولی نہ سمجھو۔کیونکہ یہی راہ ہے جو تقویٰ پر چلانے والی اور متقی بنانے والی ہے۔انسان بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کے بعض احکامات کو اس لئے اہمیت نہیں دیتا کہ دنیا کے فوائد اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔دولت، اولاد، تجارتیں، دنیا کی