خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 417 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 417

خطبات مسرور جلد 12 417 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جولائی 2014ء یا درکھو جب اللہ تعالیٰ کو کسی نے چھوڑا تو خدا نے اسے چھوڑ دیا۔جب رحمان نے چھوڑ دیا یعنی خدا نے چھوڑ دیا، خدائے رحمان نے ” تو ضرور شیطان اپنا رشتہ جوڑے گا۔“ رپورٹ جلسہ سالانہ 1897 ء از حضرت یعقوب علی عرفانی صاحب صفحہ 34) پھر آپ نے یہ بھی فرمایا کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ جھوٹا نہیں ہوسکتا کہ میں اپنی جناب سے متقی کو رزق دیتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں ( یہ الفاظ میرے ہیں ) کہ جو تقویٰ کا دعویٰ کر کے پھر رزق سے تنگ ہیں۔دعوئی تو یہ کرتے ہیں متقی ہیں، تقویٰ پر چلنے والے ہیں اور رزق میں بھی تنگی ہے یا تو پھر ان کی دنیاوی خواہشات بہت بڑھی ہوئی ہیں اور پوری نہیں ہور ہیں یا تقویٰ کا دعویٰ غلط ہے۔ان کا تقویٰ پر عمل کرنے کا دعوی جھوٹا ہے۔تقویٰ پر چلنے کا دعویٰ غلط ہے۔خدا تعالیٰ کی بات بہر حال غلط نہیں ہو سکتی۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 5 صفحہ 244) آپ نے ایک جگہ یہ بھی فرمایا کہ لوگ بعض دفعہ کہہ دیتے ہیں کہ کفار کے پاس، دنیا داروں کے پاس بڑی دولت ہے جو دین سے دور ہٹے ہوئے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اگر کوئی یہ کہے کہ کفار کے پاس بھی بڑا مال اور دولت ہے اور وہ عیش و عشرت میں منہمک اور مست رہتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ دنیا کی آنکھ میں بلکہ ذلیل دنیا داروں کی آنکھ میں خوش معلوم دیتے ہیں مگر در حقیقت وہ ایک جلن اور دکھ میں مبتلا ہوتے ہیں۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 1 صفحہ (421) اور تجربات سے ثابت ہے کہ دنیا داری نے ان کو بے چین کیا ہوا ہے۔اور اسی وجہ سے انہوں نے اپنے سکون کے لئے مختلف طریقے اپنائے ہوئے ہیں۔نشوں میں گرفتار لوگوں کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ دنیا داری کی خواہشات جو ہیں وہ پوری نہیں ہوتیں اس کی وجہ سے بے چینی ہے، بے سکونی ہے۔اس کے سکون کے لئے وہ نشے کرتے ہیں۔پس اگر کوئی شخص حقیقت میں متقی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی حصول کی کوشش کر رہا ہے تو تھوڑے سے بھی اس کو سکون مل جاتا ہے۔غیر ضروری خواہشات کا نہ ہونا بھی تو اللہ تعالیٰ کا ایک احسان ہے، فضل ہے۔پس ایک احمدی کو اس طرف بھی نظر رکھنی چاہئے کہ رمضان میں اپنے تقویٰ کو اس معیار پر لانے کی کوشش کریں جہاں دنیاوی لذات اور خواہشات اس حد تک ہوں جہاں تک خدا تعالیٰ نے اس کی اجازت دی ہے اور مال و دولت کا حصول ہو تو وہ بھی تقویٰ کو سامنے رکھتے ہوئے ہو۔اور پھر ایسے مال دار متقی اپنی