خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 414 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 414

خطبات مسرور جلد 12 414 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جولائی 2014ء کہ جہاں دشمنوں کے آپ کی شان پر حملے کا جواب یہی ہے اس سے بہتر اور کوئی جواب نہیں وہاں یہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ پیدا کرنے والی بھی چیز ہے اور یہی تقویٰ ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس خوشکن انجام کی خبر دے رہا ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عاقبت متقیوں کے لئے ہے۔آخر کار بہتر انجام متقیوں کا ہے۔جب یہ دشمنان اسلام پارہ پارہ ہو کر ہوا میں اڑ جائیں گے اور کامیابیاں اور بہتر انجام حقیقی مومنین اور متقین کا ہی ہوگا۔انشاء اللہ۔مسلم اُمہ کو بھی یہ سمجھ لینا چاہئے کہ یہ شیطانی اور دجالی طاقتیں بڑے طریقے سے انہیں ایک دوسرے سے لڑا رہی ہیں۔یہ سمجھتے ہیں کہ یہاں فرقہ بازیاں ہیں۔یہ فرقہ بازیاں اب کیوں ایک دم پیدا ہوگئیں۔یہ باہر کی کچھ طاقتیں ہیں جنہوں نے ان میں فرقہ بازیاں پیدا کروائی ہیں تا کہ اسلام کو بدنام کرنے کا موقع ملے اور پھر اسلام کو اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کیلئے جو کچھ وہ کر سکتے ہیں وہ کرتے چلے جائیں۔اندرونی حملہ یہ طاقتیں آپس میں لڑا کر اور بیرونی حملہ بیہودہ فلمیں بنا کر اسلام کی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور زندگی کے بارے میں بیہودہ گوئیاں کر کے کر رہی ہیں۔اور انہیں یہ پتا ہے کہ اس کے رد عمل کے طور پر مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑے گی اور پھر دنیا میں جو فساد ہوگا اس کو لے کر یہ طاقتیں پھر اسلام کو بدنام کریں گی۔ان شیطانی قوتوں نے ایک ایسا شیطانی چکر پیدا کر دیا ہے جس سے اب مسلمانوں کو باہر نکالنے والا کوئی نہیں۔جو ایک راستہ ہے اس کا یہ انکار کر رہے ہیں۔پس اس لحاظ سے بھی مسلم امہ کے لئے بہت دعا کریں۔اللہ تعالیٰ ان کو عقل دے۔ان کو یہ نظر آ جائے کہ کن لوگوں کے نیک انجام کی اللہ تعالیٰ خوشخبری دے رہا ہے۔کاش یہ مسیح موعود کو مان کر اسلام کی فتوحات کے نظارے دیکھنے والوں میں شامل ہو جائیں۔یہ دوسروں کے متعلق جو میں نے انجام کے بارے میں باتیں کی ہیں اس کو سن کر ہمیں صرف اس بات پر ہی تسلی نہیں پکڑ لینی چاہئے کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مان لیا اور خلافت کا نظام ہم میں موجود ہے اور ہم ایک نظام کے تحت چل رہے ہیں۔روزوں کے ساتھ تقویٰ کے معیاروں کو بلند کرنے کی طرف توجہ دلا کر اللہ تعالیٰ نے ہر فرد کی ذمہ داری لگا دی ہے کہ جماعت کی برکات سے، خلافت کی برکات سے حصہ لینے کے لئے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے کا صحیح فائدہ اٹھانے کے لئے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے ہونے کا صحیح فیض پانے کے لئے، اللہ تعالیٰ کا حقیقی عبد