خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 395
خطبات مسرور جلد 12 395 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جون 2014ء چارلس جی پالمر بکل (Charles۔G۔Palmer Buckle ) جو کیتھولک آرچ بشپ آف اکرا ( Accra) ہیں وہ کہتے ہیں کہ خدمت انسانیت کے انتھک علمبردار تھے۔امن کا پیامبر بن کر خدا کی محبت کو بانٹتے رہے۔مولوی جن اعلیٰ نظریات پر قائم تھے اور جن کے لئے انہوں نے کام کیا ان کو ہمیشہ زندہ رکھا جائے۔پھر ریورنڈ پروفیسر ایمانوئل اسانے (Most Rev۔Prof۔Emmanuel Asante) جو کہ میتھوڈسٹ(Methodist) کے صدر بشپ ہیں اور نیشنل پیس کا نفرنس کے چیئر مین ہیں۔انہوں نے لکھا کہ ایک امن پسند ، محب وطن اور اتحاد کی کوشش کرنے والا اچانک خدا کی طرف چلا گیا۔نیشنل پیس کانفرنس ہمیشہ آپ کے ان اصولوں کو قائم رکھے گی جو انہوں نے قیام امن کے لئے اپنائے۔پھر اسی طرح اور لوگوں نے بھی (اپنے تاثرات ) دیئے ہیں۔وزارت خارجہ کا نمائندہ حاجی محمد گاڈ و صاحب جو کہ گورننگ کونسل اور گھانا کونسل مذاہب برائے امن کے نائب چیئر مین ہیں ، کہتے ہیں دہم نے مسلم کمیونٹی گھانا کا ایک بڑا ستون کھو دیا ہے۔دوسری دنیا میں تو احمدی مسلمان نہیں ہیں لیکن یہاں مسلمانوں کی جو تنظیمیں ہیں کہ رہی ہیں کہ ہم نے مسلم کمیونٹی گھانا کا ایک بڑا ستون کھو دیا ہے۔انہوں نے مختلف مذاہب کے درمیان روابط کے پل استوار کئے۔مولوی وہاب آدم نہایت قابل عظیم اور اتحاد قائم کرنے والے رہنما تھے جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ خدمت انسانیت کے لئے صرف کیا اور رابطوں کو استوار کیا۔پھر ان کے بیٹے حسن وہاب نے ان کے بارے میں کچھ حالات لکھے ہیں۔کہتے ہیں کہ والد صاحب خلافت احمدیت کے حقیقی وفا شعار تھے۔ہر امر میں خلیفہ وقت سے ضروری رہنمائی حاصل کرتے تھے۔بسا اوقات چھوٹی چھوٹی باتیں بھی خلیفہ وقت کی خدمت میں بغرض رہنمائی لکھتے۔مثال کے طور پر اپنی وفات سے ایک ہفتہ پہلے جب بیماری کی وجہ سے کافی کمزور ہو گئے تو ڈاکٹر صاحب نے ہسپتال جانے کے لئے کہا۔اس پر انہوں نے ڈاکٹر صاحب کو جواب دیا کہ پہلے خلیفہ وقت کی خدمت میں لکھ کر اجازت لے لو پھر جاؤں گا۔شکرگزاری کے بارے میں ان کے بیٹے لکھتے ہیں۔زندگی کا وسیع تجربہ رکھتے تھے اور اس حوالے سے جو بھی واقعات سناتے ان کا ہمارے اخلاق پر بہت گہرا اثر ہوتا۔1990ء میں جب ان کا ایک بیٹا ملک سے باہر گیا تو اس نے وہاب صاحب کو شکایت کی کہ گھر سے رابطہ کرنے میں بہت وقت لگتا۔ہے۔